تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 241 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 241

تاریخ احمدیت جلد ۵ 237 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے میں صرف کی ہیں اور اس معاملہ میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنے لٹریچر میں اسلام کو اسی طریق سے پیش کیا ہے جو ان کے نزدیک ایسے لوگوں کو بھی اپنی طرف جذب کر سکے گا۔جنہوں نے جدید اند از پر تعلیم حاصل کی ہے۔اور اس طرح نہ صرف یہ کہ غیر مسلموں کو ان کی طرف کشش ہوگی اور اسلام کے عیسائی مخالفین کے حملوں کا رد ہو سکے گا بلکہ ان مسلمانوں کو بھی واپس اسلام میں لایا جا سکے گا جو دہریت یا طبعیت کے اثرات سے متاثر ہو چکے ہیں"۔حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کی بیعت حضرت صاجزادہ مرزا سلطان احمد صاحب جنہوں نے ۱۹۲۸ء میں اعلان احمدیت کیا تھا اس سال دسمبر ۱۹۳۰ء میں اپنی آخری بیماری کے دوران جبکہ آپ صاحب فراش ہو چکے تھے۔اپنے چھوٹے بھائی حضرت امیر المومنین میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح ایدہ اللہ تعالٰی الودود کے دست مبارک پر بیعت کرلی۔اور اس طرح سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مصلح موعود سے متعلق یہ عظیم الشان پیشگوئی کہ وہ تین کو چار کرنیوالا ہو گا غیر معمولی حالات اور فوق العادت رنگ میں پوری ہو گئی۔فالحمد لله حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب اس واقعہ سے متعلق لکھتے ہیں کہ ” میں جناب مرزا سلطان احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو تا رہتا تھا اور کبھی کبھی سلسلہ احمدیہ کا ذکر بھی ہو جاتا تھا آخر اللہ تعالی اپنے فضل سے وہ دن بھی لے آیا کہ مرزا صاحب موصوف کے اہل بیت کی طرف سے خاکسار کو بلایا گیا۔تا حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کر کے حضور کو یہاں لے آؤں۔تا حضور بیعت لے لیں۔میں نے حضرت امیر المومنین خلیفہ اصیح ایدہ اللہ تعالی کی خدمت مبارک میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے ہاں تشریف لے چلنے اور ان سے بیعت لے لینے کے لئے عرض کیا۔حضور اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے۔حضور ایدہ اللہ تعالی مرزا سلطان احمد صاحب کی چارپائی کے قریب کرسی پر بیٹھ گئے۔تو میں نے دیکھا۔کہ دونوں بھائیوں پر خاموشی طاری ہے اور ایسا معلوم ہو تا تھا کہ دونوں کے دل شرم و حیا سے لبریز ہیں۔آخر کچھ توقف کے بعد خاکسار نے مرزا صاحب موصوف کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ جب آپ بیعت کی خواہش ظاہر فرما چکے ہیں تو اپنا ہاتھ بڑھا ئیں اور بیعت کر لیں چنانچہ انہوں نے ہاتھ بڑھایا اور بیعت شروع ہو گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح دھیمی آواز سے بیعت کے الفاظ فرماتے اور مرزا سلطان احمد صاحب ان کو دہراتے جاتے تھے جس وقت یہ الفاظ فرمائے گئے کہ آج میں محمود کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے تو بہ کر کے احمدی جماعت میں داخل ہو تا ہوں۔تو میرے قلب کی عجیب کیفیت ہو گئی۔