تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 218
تاریخ احمدیت جلد ۵ 214 لافت ثانیہ کاسترھواں سال ناگزیر تھا۔چنانچہ وائسرائے ہند یہ کہہ چکے تھے کہ یہ اہم سرکاری حیثیت اور پر معنی قدرو قیمت کی دستاویز ہے اور اس وقت ہندوستان کی سیاسی حالت کے مسئلہ کا ایک ایسا تعمیری حل ہے جس سے بہتر ہمارے پاس اور کوئی حل موجود نہیں۔بنا بریں حضور نے گول میز کانفرنس کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مدلل و مفصل اور جامع و مانع تبصرہ لکھا اور اس کا انگریزی ایڈیشن شائع کرا کے بذریعہ ہوائی جہاز مین اس وقت انگلستان میں پہنچادیا جبکہ گول میز کانفرنس کی کارروائی کا آغاز ہونے والا تھا۔اس کتاب کی تیاری میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے دن رات ایک کر کے نہایت محنت اور عرق ریزی سے کام کیا اور انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ کتاب بر وقت تیار ہو گئی۔اور گول میز کانفرنس کے ممبروں کے علاوہ وزیر اعظم انگلستان ، وزیر ہند اور دیگر عمائد و ارکان سلطنت برطانیہ تک پہنچ گئی اور اس کے بعد ہندوستان میں بھی اعلیٰ حکام اور اسمبلی اور کو نسل کے اکثر ممبروں اور ملک کے چوٹی کے سیاسی لیڈروں کو بھجوائی گئی اور بکثرت تقسیم کی گئی۔یہ تبصرہ جس میں مسلمانوں کے حقوق و مطالبات کی معقولیت پر سیر حاصل بحث کی گئی تھی۔اور ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا نہایت معقول اور تسلی بخش حل پیش کیا گیا تھا۔اس سے راؤنڈ ٹیبل کے مسلمان نمائندوں کو بہت تقویت پہنچی اور اس کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے پہلی بار متفقہ طور پر اپنے مطالبات کامیابی اور خوبی کے ساتھ پیش کئے اور انگلستان کے اہل الرائے لوگوں پر اس کا اس قدر گہرا اثر ہوا کہ وہ لوگ جو چند روز پہلے اس عظیم الشان ملک کو ہندوؤں کے ہاتھ میں دینے کو تیار بیٹھے تھے۔اس غلطی سے متنبہ ہو گئے اور مسلمانوں کی ہندوستانی خصوصی حیثیت کے قائل ہو کر ان کے مطالبات کی معقولیت کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گئے۔یہ تبصرہ انگلستان اور ہندوستان دونوں حلقوں میں بہت مقبول ہوا نہایت درجہ دلچسپی اور توجہ سے پڑھا گیا اور مدبروں سیاستدانوں اور صحافیوں نے اس پر بڑے شاندار الفاظ میں خراج تحسین ادا کیا۔چنانچہ بطور نمونہ چند آرا اور رج ذیل کی جاتی ہیں :- - لارڈ میسٹن سابق گورنریو-پی- میں آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے امام جماعت احمدیہ کی نہایت دلچسپ تصنیف ارسال فرمائی ہے میں نے قبل ازیں بھی ان کی چند تصنیفات دلچسپی سے پڑھی ہیں۔مجھے امید ہے کہ اس کتاب کا پڑھنا میرے لئے خوشی اور فائدے کا موجب ہو گا۔لیفٹیننٹ کمانڈر کینور دی ممبر پارلیمنٹ۔کتاب ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل کے ارسال فرمانے پر آپ کا بہت بہت ممنون ہوں میں نے اسے بہت دلچسپی سے پڑھا ہے “۔