تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 217 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 217

تاریخ احمدیت جلد ۵ 213 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال سیرت النبی کے جلسے اس سال پھر ۲۶اکتوبر ۱۹۳۰ء کو جماعت احمدیہ کے زیر انتظام اندرون و بیرون ملک میں جلسہ ہائے سیرت النبی ( ) کے پر شوکت جلسے منعقد ہوئے۔اس روز حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قادیان میں ایک نہایت پر معارف تقریر فرمائی جس میں عرفان الہی اور محبت باللہ کے اس عالی مرتبہ پر روشنی ڈالی جس پر رسول کریم ال دنیا کو قائم فرمانا چاہتے تھے۔حسب دستور اس سال بھی الفضل کا خاتم النبین نمبر شائع ہوا جس میں حضرت امیر المومنین ایده اللہ تعالیٰ اور سلسلہ کے دوسرے بزرگوں کے مضامین کے علاوہ مولوی عبد المجید صاحب سالک مدیر انقلاب سراج الحسن صاحب سر آج لکھنوی، حکیم سید علی صاحب آشفته، منشی پچھن نرائن صاحب سنہا کی نعتیں بھی شامل اشاعت تھیں۔اس نمبر کی یہ بھی خصوصیت تھی کہ اس میں بیرونی ممالک کے احمدیوں نے بھی حصہ لیا تھا۔اور سالٹ پانڈ مغربی افریقہ کے مسٹر جمال جانسن کا مضمون اور فلسطین کے مصباح الدین العابودی کی عربی نظم شائع ہوئی۔لارڈ اردن سائمن کمیشن رپورٹ پر تبصرہ اور ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل واترائے ہند رخصت پر ولایت گئے وہاں سے واپس آکر انہوں نے ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو اعلان کیا کہ ہندوستان کی منزل مقصود درجہ نو آبادیات ہے اور حکومت سیاسی ارتقاء کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کے لئے ایک گول میز کانفرنس بھی منعقد کرنے کو تیار ہے اس کے سات ماہ بعد ۱۲ مئی ۱۹۳۰ء کو انہوں نے گول میز کانفرنس کی تاریخ انعقاد کا بھی اعلان کیا کہ یہ کانفرنس ۲۰ نومبر ۱۹۳۰ء کے قریب منعقد کئے جانے کی تجویز ہے اور ہندوستانی نمائندوں کو لندن میں جمع کرنے کے انتظامات بڑی سرگرمی سے عمل میں لائے جارہے ہیں اور جہاں کانگریس نے اقلیتوں کے مسائل کلیتہ نظر انداز کر دیئے وہاں وائسرائے نے کانفرنس کے زیر غور مسائل میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ہی قرار دیا اور کہا:- ہندوستان کا ارتقاء حقیقی مسائل کے حل پر منحصر ہے جن میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ اقلیتوں کی آئندہ پوزیش کیا ہوگی جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ہے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ کوئی ایسا تصفیه اطمینان بخش خیال نہیں کیا جا سکتا جو ان اہم اقلیتوں کے نزدیک مقبول نہ ہو جنھیں آئندہ دستور کے ماتحت زندگی بسر کرنی ہے اور جو ان میں حفاظت و سلامتی کا احساس پیدا کر دے"۔گول میز کانفرنس کے موقع پر مسائل اقلیت کے سلسلہ میں سائمن کمیشن کی رپورٹ کا زیر غور آنا