تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 204
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 200 خلافت عثمانیہ کا سترھواں ڈاکٹر محمد شفیع صاحب ویٹرنری اسٹنٹ جڑانوالہ میں تھے ٹریبیون کی خبر پڑھ کر ان کی جو حالت ہوئی اس کی نسبت وہ خودہی لکھتے ہیں۔ٹریبون کی غلط خبر نے مجھے قریب مرگ کر دیا۔اگر اسی روز شام کو ٹرمیون میں تردید کا تار نہ پڑھتا اور برادرم ڈاکٹر محمد احسان صاحب قادیان سے ۱۰ بجے شب کو نہ آجاتے۔تو میرا زندہ رہنا مشکل تھا کیونکہ جس وقت سے میں نے یہ خبر پڑھی تھی رو رو کر میری حالت دگرگوں ہو رہی تھی۔دل ڈوبتا جاتا اور جسم بے حس ہوتا جاتا تھا۔ملک ( راجہ ) علی محمد صاحب افسر مال نے انہیں دنوں مظفر گڑھ سے مولوی عبد الرحیم صاحب درد کے نام مندرجہ ذیل مکتوب لکھا جس سے کسی قدر اندازہ ہو جائے گا کہ ٹریبیون کی خبر سن کر احمدیوں کی کیا حالت ہوئی ہوگی وہ لکھتے ہیں۔کل شام کو عزیزی چوہدری عبداللہ خاں صاحب و ڈاکٹر محمد دین صاحب اخبار ٹریبون کا پرچہ میری اطلاع کے لئے لائے وہ خود روتے ہوئے میرے پاس پہنچے خبر پڑھ کر دل بے قرار ہو گیا۔اٹھ کر میں نے اندر اپنی اہلیہ کو خبر دی جو سخت گھبرا گئی چند ساعت تو ہم سب بیٹھے زار زار روتے رہے دل میں غم و ملال کے بادل اٹھ کر آتے تھے۔اور قوت واہمہ قادیان لے جاتی تھی۔اور تصور قادیان کی حالت و غم و مصیبت کی ایسی تصویر کھنچا تھا جس کی وجہ سے آنکھیں پھٹ جاتی تھیں۔اور کلیجہ منہ کو آتا تھا تمام رات میں نہیں سویا۔اور روتے ہوئے گذری میری اہلیہ کی حالت نہایت مضطربانہ تھی اور کبھی کبھی جب اس کے منہ سے یہ صداغم والم کے گہرے جذبات سے آلودہ نکلتی کہ حضرت صاحب نے ہزاروں نکاح کے خطبے پڑھے ہونگے لیکن کیا اب ان کی لڑکی کا خطبہ کوئی اور پڑھے گا۔تو دل غم کے تلاطم خیز سمندر میں تیر تادکھائی دیتا تھا۔اور جب قوت واہمہ میری توجہ کو جماعت کی موجودہ اور اندرونی بیرونی شورش کی طرف کھینچتی تھی تو پھر دل سے یہی صدا نکلتی تھی کہ یہ زلزلہ جو ہماری جماعت پر آیا ہے بے نظیر ہو گا۔اور اس کی مثال کسی گذشتہ جماعت کے حالات میں نہیں ملیگی دل غم سے پر ہو کر آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔کبھی کبھی دل میں یہ خیال گذر تا تھا کہ شاید یہ خبر جھوٹ ہو لیکن اس پر اعتبار نہیں کیا جاتا تھا۔کیونکہ اتنی بڑی شخصیت کے متعلق ٹریبیون" اخبار میں جھوٹی خبر نکلنے کا کم امکان ہو سکتا ہے تاہم اس خیال کے تابع میں نے اپنے رب کے حضور میں درخواست کی کہ اے میرے مولی اگر یہ خبر غلط ہو تو میں ایک رات سالم عبادت کروں گا۔اور بالکل نہیں سوؤں گا چنانچہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہی کرنے کا ارادہ ہے۔غرضیکہ گزشتہ رات ہمارے لئے قیامت کا نمونہ تھی میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آج تک ایسی غم والی رات نہیں پائی "