تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 205 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 205

تاریخ احمد بیت ، جلد ۵ 201 خلافت عثمانیہ کا سترھواں سال ۱۵۰ ڈاکٹر محمد علی خاں صاحب افریقی - "رمیون " اخبار پڑھتے ہی ماہی بے آب کی طرح تلملا اٹھے اس صدمہ سے دل کو ضعف ہو گیا تار دینے ہی کو تھے کہ جماعت احمد یہ گجرات کے امیر سے خوشخبری ملی کہ حضور بخیریت ہیں۔بارگاہ ایزدی میں شکر کیا لیکن اس دن کے ضعف کا اثر تین دن تک رہا۔خود قادیان میں یہ حالت تھی کہ جس کے کان میں یہ منحوس خبر پڑتی وہ حضرت امیر المومنین کی خیر و عافیت کا اپورا علم اور یقین رکھنے کے باوجود حضور کی زیارت کے لئے بے تاب ہو جاتا حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کا بیان ہے کہ :- ۵۱ میں حسب معمول اپنے دفتر کے بر آمدہ میں بیٹھا تھا کہ مکرمی مولوی فقیر علی صاحب اسٹیشن ماسٹر ( قادیان) گھبرائے ہوئے بھاگے چلے آتے ہیں۔میں محسوس کرتا تھا کہ گھبراہٹ میں ان کا قدم باوجود کوشش کے پوری تیزی سے نہیں اٹھ رہا۔مجھ سے ابھی وہ فاصلے پر تھے کہ میں نے پوچھا خیر تو ہے انہوں نے کہا حضرت صاحب کی طبیعت کیسی ہے میں نے جواب دیا اچھی ہے مگر میرے کہنے سے ان کی تسلی نہیں ہوئی وہ بھاگے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ لاہور میں کسی بد معاش نے جھوٹی خبر اڑا دی ہے میں اندازہ کرتا تھا کہ ان کے منہ سے موت کا لفظ نہیں نکلتا۔میں نے کہا کہ کیوں تم نے اسٹیشن پر ہی اس کی تردید نہ کر دی۔انہوں نے کچھ جواب نہ دیا اور بھاگتے چلے گئے میں نے اس نظارہ کو دیکھا اور تعجب کیا کہ یہ قادیان میں موجود تھے اور ان کو علم تھا پھر انہوں نے اس خبر کی تردید کے لئے شہر آنے کی کیوں ضرورت سمجھی مگر معامیں نے محسوس کیا کہ یہ محبت کا ایک کرشمہ ہے۔03 قاریان ہی کا واقعہ ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے اہل بیت کے پاس سے ایک احمدی خاتون اٹھ کر گئی ہی تھیں کہ ان کے بیٹے نے جو لاہور سے اسی وقت آئے تھے یہ سنایا کہ وہاں ایسی خبر مشہور ہے وہ خاتون یہ سنتے ہی فورا واپس آئیں جب حضور کی صحت سے متعلق دریافت کر لیا تو انہیں تسلی ہوئی۔قادیان میں جب بیرونی جماعتوں کے اس طرح پریشانی و افسوس میں مبتلا ہونے کا علم ہوا تو اس کے ازالہ کے لئے جو کچھ کیا جا سکتا تھا اس کے لئے تمام دفاتر مصروف ہو گئے اور جماعتوں کو ہر ممکن ذریعہ تارون وغیرہ سے حضور کی بخیریت ہونے کی اطلاع جلد سے جلد پہنچانے کے انتظامات کئے گئے اس موقعہ پر الفضل کا ایک غیر معمولی نمبر بھی شائع کیا گیا۔اسٹیشن ماسٹر صاحب اور سب پوسٹ ماسٹر صاحب قادیان اور ان کے عملے نے بھی پورا پورا تعاون کیا اور ہر طرف اطلاعات بھجوانے کی کوشش کی لیکن ان تمام ذرائع کو بروئے کار لانے کے باوجود کئی مقامات کے احمدی جنھیں بروقت اطلاع نہ پہنچائی جاسکی یا کسی اور جگہ سے بھی علم نہ ہو سکا وہ نور آقادیان کے لئے روانہ ہو گئے اور ۳ جون کی صبح کی گاڑی سے