تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 203
تاریخ احمدیت جلد ۵ 199 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال فصل سوم حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالٰی جون ۱۹۳۰ء کا پہلا ہفتہ جماعت احمدیہ کے لئے ایک درد انگیز امتحان اور ابتلاء کا ہفتہ تھا احمدیوں نے کانگریس کی سیاسی شورش کے کی نسبت اخبار ٹریبون رن" کی مفتریانہ خبر اور اس کا رد عمل خلاف قیام امن کی جو مخلصانہ جدوجہد جاری رکھی تھی اس پر کانگریسی حلقے نعل در آتش ہو رہے تھے۔اور انہوں نے مختلف مقامات کے احمدیوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیں اس سلسلہ میں سب سے خطرناک حربہ یہ استعمال کیا گیا کہ جماعت احمدیہ سے انتقام لینے اور اس کی توجہ منتشر کرنے کے لئے ہندو اخبار ٹرمیون " کے کسی نامہ نگار نے امرت سرے بذریعہ فون حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اچانک وفات کی بے بنیاد خبر بھیجی جو " ٹریبون لاہور نے ۳ جون ۱۹۳۰ء کو شائع کر دی اور اس پر ایک شذرہ لکھ دیا۔Kia اس سراسر جھوٹی اطلاع نے حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات سے متعلق جماعت احمدیہ کے لئے اس قدر رنج والم اور غم واندوہ پیدا کر دیا جس کا اندازہ امکان سے باہر ہے اس خبر کا شائع ہو نا تھا کہ بجلی کی طرح یہ آن کی آن میں ملک کے ایک سے دو سرے سرے تک پہنچ گئی اور جس احمدی تک بھی پہنچی اس پر ایک قیامت ڈھا گئی بہت سے احمدی احباب کا بیان ہے کہ ٹرمیون کی خبر کان میں پڑتے ہی دماغ معطل ہو گیا ہاتھ پاؤں پھول گئے۔گویائی کی طاقت سب ہو گئی اور گھر کے لوگوں کو بتانا مشکل ہو گیا۔اور جب بتایا گیا تو گھروں میں کہرام مچ گیا مرد عورت بوڑھے جو ان جلد سے جلد قادیان جاپہنچنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔چنانچہ جہاں جہاں سے تردید کی اطلاع پہنچنے سے پہلے کوئی گاڑی چلتی تھی وہاں کے احباب فور اروانہ ہو گئے اور جہاں روانگی میں دیر تھی یا جلدی پہنچنا مشکل تھا وہاں سے واپسی تاروں کا تانتا بندھ گیا۔شیخ کریم بخش صاحب آف کوئٹہ نے یہ اطلاع سنی تو جماعت کو ئٹہ کی طرف سے تار دینے کے لئے تار گھر گئے اور ساری رات بیٹھے روتے رہے جب دوسرے روز ۴ بجے حضور کی خیریت کا جواب ملا تب گھر گئے۔۔