تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 202
تاریخ احمدیت جلد ۵ 198 خلافت عثمانیہ کا سترھواں سال پھیلائیں جس طرح کوئی شخص کسی ڈاکٹر کو نہیں کہہ سکتا کہ تم لوگوں کا علاج کیوں کرتے ہو کیونکہ اس کا کام ہی یہ ہے اسی طرح کوئی شخص حق کے اظہار کی وجہ سے ہم پر بھی اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ہمارا پیشہ ہے اس لئے جسے ہم مفید سمجھیں فرض منصبی کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچادیں۔اگر ہماری باتیں غلط ہیں تو پھر ہمارے مخالفین کے لئے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں کیوں کہ ان باتوں کو سن کر لوگ خود ہی رد کر دیں گے لیکن اس حق سے ہمیں محروم نہیں کیا جاسکتا کہ جس طرح وہ اپنے خیالات کی اشاعت کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی کریں آزادی وطن حاصل کرنے والے آزادی کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہیں۔لیکن کیا یہ امر آزادی کے منافی نہیں ہو گا۔کہ وہ ہم سے محض اس وجہ سے جھگڑیں کہ ہماری رائے ان کے خلاف ہے انہیں تو چاہئے کہ اعلان عام کر دیں کہ جو شخص ان کے خیالات کے خلاف رائے رکھتا ہو وہ آئے اور اسے پیش کر کے اس کی معقولیت ثابت کرے۔۔۔ہم ایسے جلسوں کا انتظام کرتے ہیں اور مخالف رائے رکھنے والے اپنی اپنی رائے کا اظہار کریں ہم نے تو کئی بار اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جو لوگ ہماری رائے کو غلط سمجھتے ہیں وہ آئیں اور ہمارے سٹیج پر کھڑے ہو کر تقریریں کریں یہ نہیں کہ ہر ایرے غیرے کے لئے بلکہ اگر معقول اور بار سوخ لیڈر آئیں تو ہم ان کی تقریر کے لئے جماعت کو اکٹھا بھی کر سکتے ہیں اور میں خود بھی ان کے خیالات سنوں گا اور اگر انکی بات معقول ہوگی تو ہمیں اس کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہو گا۔اور اگر وہ ہمارے خیالات کو معقول سمجھیں تو ان کا بھی فرض ہے کہ آزادی کے ساتھ ہماری اتباع کرنے لگ جائیں۔مگر افسوس کانگریس کے ذمہ دار لیڈروں کو اس معقول تجویز کے قبول کرنے کی توفیق نہ مل سکی۔