تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 201 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 201

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 197 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال اخبار "سیاست" کے ایڈیٹر جناب سید حبیب صاحب کی طرف سے اس تار کے جواب میں حسب ذیل میٹھی موصول ہوئی:- " جناب من ! میں دلی شکریہ کے ساتھ آپ کے مکتوب نمبر C۲۶/۴۵۹ محررہ ۲۷ مئی ۱۹۳۰ء اور تار جس کا آپ نے اس مکتوب میں حوالہ دیا ہے رسید پیش کرتا ہوں اور آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ اس موقعہ پر آپ نے جس برادرانہ ہمدردی اور بچی اسلامی سپرٹ کا اظہار کیا ہے اس نے مجھ پر اور ے متعلقین پر ایک دیر پا اثر قائم کیا ہے میں آپ کی معرفت آپ کی جماعت کا شکریہ ادا کر تا ہوں اور انہیں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ میں اس پیشکش کے لئے بے حد ممنون ہوں اب خطرہ گذر گیا ہے اور کانگریس نے میرے دفتر پر پکٹنگ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔تاہم اگر کبھی ضرورت پیش میرے آئی تو میں آپ کی مخلصانہ پیشکش سے فائدہ اٹھانے میں دریغ نہ کروں گا آپ کا حبیب "۔سیاسیات میں دخل دینے کی وجہ جماعت احمدیہ ایک مذہبی جماعت ہے جس کا اصل مقصد اور مدعا تبلیغ اسلام ہے اس لئے اس کا براہ راست سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں لیکن جب ملک میں کوئی وبا آتی ہے تو وہ سب کو لپیٹ لیتی ہے جب آگ لگتی ہے تو دوست دشمن کے گھر کی کوئی تمیز روا نہیں رکھتی۔اسی طرح وہ سیاسی تغیرات جو اس زمانہ میں پیدا ہو رہے تھے اور وہ بہیجان جو عوامی ذہن میں پایا جاتا تھا جماعت احمدیہ پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور اگر جماعت احمد یہ خود متاثر نہ بھی ہوتی تب بھی دوسرے لوگ انہیں خاموش نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔سیاسی حلقے پہلے یہ اعتراض کرتے تھے کہ یہ جماعت ملکی معاملات میں دلچسپی نہیں لیتی لیکن جب حضرت خلیفتہ المسیح کی قیادت میں جماعت نے صحیح طریق عمل کا اظہار کیا تو یہ کہا جانے لگا کہ تم کانگریس کی تحریک کے خلاف کیوں رائے رکھتے ہو۔حضور نے ۳۰ مئی ۱۹۳۰ء کو جماعت احمدیہ کی یہ نازک پوزیشن ملک کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا :- جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم سیاسیات میں کیوں دخل دیتے ہیں ان کے لئے میرے تین جواب ہیں اول یہ کہ ہم اپنا کام کر رہے تھے تم نے ستایا دن کیا اور بار بار اعتراض کئے کہ تم کیوں خاموش ہو اس لئے ہم مجبور ہو گئے کہ اپنی صحیح رائے کا اظہار کر دیں۔دوسرے یہ کہ ہماری جماعت خد اتعالیٰ کے فضل سے ہندوستان کے ہر حصہ اور بیرونی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اور ان میں سے کئی ایک ایسے دوست ہیں جنھیں سالہا سال قادیان آنے کا اتفاق نہیں ہوتا اس لئے ضروری ہے کہ ان کی رہنمائی کے لئے ہم اپنے نیز بیرونی پریس کے ذریعہ بھی ملکی امور کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں اور انہیں مناسب ہدایات دیں تیسرے یہ کہ ہم مبلغ ہیں اور ہمارا پیشہ میں ہے کہ جو بات حق سمجھیں اسے دنیا میں