تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 200
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 196 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال بھی بہت اچھا ہوا ہے۔۔واقعہ پشاور کی تحقیق کے لئے ہائیکورٹ کے دو جوں پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کر دیگئی ہے۔۵- شاردا ایکٹ کے متعلق آپ کی رائے ہز ایکسی لینسی نے خاص دلچسپی سے پڑھی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک مذہبی جماعت کے امام کی طرف سے اس بارے میں جو خیالات ظاہر کئے گئے ہیں۔وہ خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں چنانچہ گورنمنٹ آف انڈیا نے حال ہی میں لوکل حکومتوں سے شار دا ایکٹ وغیرہ کے بارہ میں مشورہ طلب کیا ہے۔- حفاظت حقوق کی نسبت مسلمانوں کی بدگمانی دور کرنے کے لئے ہز ایکسی لینسی اپنے اثر کو کام میں لائیں گے۔ہر میجسٹی کی حکومت ہمیشہ اس امر پر زور دیتی رہی ہے کہ گول میز کانفرنس میں تمام قوموں اور خاص ذمہ داری رکھنے والی جماعتوں کی نمائندگی کا ضرور خیال رکھا جائے گا۔کانگریس جماعت احمدیہ کی طرف سے مسلم پریس کی حفاظت کیلئے پیشکش پنجاب کا مرین کمیٹی نے اخبارات بند کر دینے کا نوٹس دیا تھا۔اور بند نہ کرنے کی صورت میں پکٹنگ لگانے کی دھمکی دی تھی جس سے کانگریس کی غرض یہ تھی کہ مسلمان اخبارات کا جو کانگریسی شورش کے خطرات سے آگاہ کر رہے تھے گلا گھونٹ دیا جائے اور اس طرح مسلمانوں کے سیاسی اور ملکی مفاد کو سخت نقصان پہنچایا جائے۔اس نازک مرحلہ پر جماعت احمدیہ نے لاہور کے مسلم اخبارات " انقلاب و سیاست کو کانگریس کے تشدد سے بچانے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔چنانچہ ناظر صاحب امور خارجہ قادیان نے اخبار انقلاب و سیاست کو حسب ذیل نار دیا۔" جماعت احمدیہ کو یہ سن کر افسوس ہوا کہ کانگریس کے رضا کار آپ کے دفتر پر پہرا بٹھانے کی دھمکی دے رہے ہیں چونکہ یہ امر بابند قانون شہریوں کا مقصد مشترک ہے اس لئے جماعت احمدیہ قادیان حسب ضرورت اپنے آدمیوں کو لاہور بھیجنے کے لئے بالکل تیار ہے تاکہ وہ کانگریس کے جارحانہ اقدام کے مقابلے میں اخبارات کی حفاظت کریں"۔یہ تار انقلاب نے اپنے ۲۹ مئی ۱۹۳۰ء کے پرچہ میں احمدی بھی انقلاب کی حفاظت کے لئے تیار ہیں کے عنوان سے نمایاں طور پر شائع کرتے ہوئے لکھا:- " ہم جماعت احمدیہ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ ان کی طرح ہر مسلمان اپنے اس خادم جریدے کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہے جب تک ملت اسلامید انقلاب کی پشت پناہ ہے انقلاب کو کفر کی طاقتیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں "۔(صفحہ 1)