تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 192
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 188 خلافت ثانیہ کا سترھواں یہ تجویز رکھی کہ انجمن معتمدین خلیفہ وقت کی ماتحتی میں سلسلہ کی تمام جائداد کی نگران اور مالک مقرر ہوئی ہے اس واسطے وہ صحیح معنوں میں جماعت کی نمائندہ ہونی چاہئے ناظر صاحبان جو جماعت کے ملازمین میں سے ہیں۔کسی طرح بھی جماعت کے نمائندے نہیں کہلا سکتے۔ہمارے خیال میں انجمن معتمدین کے ممبران جماعت کے انتخاب سے مقرر ہونے چاہئیں - 21 یہ پوری تجویز چونکہ منصب خلافت کی حقیقت کے بالکل خلاف اور اس پر تبر رکھنے کے مترادف تھی اس لئے حضور نے اس پر زبردست تنقید کی اور نہایت پر حلال اور پر شوکت الفاظ میں اعلان فرمایا :- اللہ تعالیٰ ہمارا گواہ ہے ہم ایسے لوگوں سے تعاون کر کے کام نہیں کر سکتے۔ہم نے اس قسم کے خیالات رکھنے والے ان لوگوں سے اختلاف کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہے آپ کے پاس بیٹھے آپ کی باتیں سنیں ہم اپنے جسم کے ٹکڑے الگ کر دینا پسند کر لیتے۔لیکن ان کی علیحدگی پسند نہ کرتے مگر ہم نے انہیں چھوڑ دیا اور اس لئے چھوڑ دیا کہ خلافت جو برکت اور نعمت کے طور پر خدا تعالیٰ نے نازل کی وہ اس کے خلاف ہو گئے اور اسے مٹانا چاہتے تھے۔خلافت خدا تعالیٰ کی ایک برکت ہے اور یہ اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک جماعت اس کے قابل رہتی ہے لیکن جب جماعت اس کی اہل نہیں رہتی تو یہ مٹ جاتی ہے ہماری جماعت بھی جب تک اس کے قابل رہے گی۔اس میں یہ برکت قائم رہے گی اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ مجلس شوری جماعت کی نمائندہ ہے اور اس کی نمائندہ مجلس معتمدین ہو تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ ہم یہ خیال سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتے۔اور ہم اس کے مقابلہ میں ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن خلافت کو نقصان پہنچنے دینے کے لئے تیار نہیں۔اللہ تعالی گواہ ہے میں صاف صاف کہ رہا ہوں ایسے لوگ ہم سے جس قدر جلد ہو سکے الگ ہو جائیں اور اگر وہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں تو منافق ہیں اور دھوکہ دے کر رہتے ہیں اگر سارے کے سارے بھی الگ ہو جائیں اور میں اکیلا ہی رہ جاؤں تو میں سمجھوں گا کہ میں خداتعالی کی اس تعلیم کا نمائندہ ہوں جو اس نے دی ہے مگر یہ پسند نہ کروں گا کہ خلافت میں اصولی اختلافات رکھ کر پھر کوئی ہم میں شامل رہے یہ اصولی مسئلہ ہے اور اس میں اختلاف کر کے کوئی ہمارے ساتھ نہیں روستا اس موقعہ پر ہر طرف سے پر زور آوازیں آئیں کہ سب حضور کے ساتھ متفق ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے اندر جو بہادرانہ سپرٹ کام کر رہی تھی وہ خود حفاظتی کی تلقین حضور پوری جماعت میں سرگرم عمل دیکھنے کے متمنی تھے چنانچہ آپ