تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 191 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 191

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 187 خلافت ماشیہ کا سترھواں سال حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف جماعت احمدیہ علی وجہ البصیرت اپنے خلیفہ دامام سے روزوں کی تحریک اور اس کا نتیجہ کا جو مقام و منصب سمجھتی ہے اور اسے جس طرح اپنے ایمان کا جزو قرار دیتی ہے اس لحاظ سے یہ سوال خارج از بحث تھا کہ فتنہ پردازوں کے خلاف کسی دنیوی عدالت میں چارہ جوئی کی جائے البتہ سلسلہ کے دوسرے ارکان کے تحفظ کے لئے عدالتوں کی طرف رجوع ہو سکتا تھا۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالی نے اسی نقطہ نگاہ سے ۱۹۳۰ء کی مجلس مشاورت میں جماعت کے نمائندوں سے مشورہ طلب فرمایا۔چنانچہ عدالتوں کے طریق کار سے پوری طرح واقفیت رکھنے والے معززین اور تجربہ کار اصحاب کی آراء سننے کے بعد اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی شان اور وقار کے احترام کا لحاظ رکھتے ہوئے نمائندوں کی کثرت نے رائے دی کہ ہمیں سرکاری عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ان پر کوئی بھروسہ ہے۔چنانچہ حضور نے بھی فیصلہ فرمایا کہ ہم انسانی عدالتوں کی بجائے خدائے قدوس کی بارگاہ میں اپنا استغاثہ پیش کریں۔اور ارشاد فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کی عادت تھی کہ ہفتہ میں دو روز پیر اور جمعرات کے دن روزے رکھا کرتے تھے۔ہماری جماعت کے وہ احباب جن کے دل میں اس فتنہ نے درد پیدا کیا ہے اور جو اس کا انسداد چاہتے ہیں۔اگر روزے رکھ سکیں تو ۲۸ اپریل ۱۹۳۰ء سے تیس دن تک جتنے پیر کے دن آئیں ان میں روزے رکھیں اور دعاؤں میں خاص طور پر مشغول رہیں کہ خدا تعالے یہ فتنہ دور کر دے۔اور ہم پر اپنا خاص فضل اور نصرت نازل کرے اور جو دوست یہ مجاہدہ مکمل کرنا چاہیں وہ چالیس روز تک جتنے پیر کے دن آئیں ان میں روزے رکھیں اور دعا کریں۔چنانچہ جماعت کے دوستوں نے حضور کی تحریک پر روزے رکھے اور تضرع سے دعائیں کیں آخر خدائی عدالت نے اپنے بندوں کے حق میں ڈگری دے دی یعنی ایسا سامان پیدا کر دیا کہ فتنہ پردازوں کے دلوں میں حکومت کی مخالفت کا جوش پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے وہ سب پکڑے گئے باقی وہ رہ گئے جو بالکل کم حیثیت اور ذلیل لوگ تھے۔اصل وہی تھے جن کی شہ پر انہیں شرارت کی جرأت ہوتی تھی اور دہ گرفتار ہو گئے ان کے علاوہ وہ اخبار جو جماعت کے خلاف گند اچھالتے تھے۔یا تو بند ہو گئے۔یا پریس آرڈی نینس کے خوف کی وجہ سے اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوئے۔منصب خلافت سے متعلق پر شوکت اعلان پچھلے سالوں میں حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جو کمیشن دفاتر کے جائزہ کے سلسلہ میں مقرر فرمایا تھا اس نے مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں