تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 193
تاریخ احمدیت - جلد ۵ 189 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال نے اس سلسلہ میں مجلعی مشاورت ۱۹۳۰ء کے موقعہ پر احباب کو یہ اہم مشورہ دیا کہ :- جو سامان بہادری اور جرات پیدا کرنے والے میسر آسکتے ہیں وہ ضرور مہیا کئے جائیں جن احباب کو بندوق رکھنے کی اجازت مل سکے وہ بندوق رکھیں جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہاں تلوار رکھی جائے اور جہاں یہ اجازت نہ ہو وہاں سونار کھا جائے۔۔۔قرآن کریم میں آتا ہے خذوا حذر کم ہتھیار اپنے پاس رکھو دیکھو سکھ ہتھیار رکھنے کے لئے کس قدر اصرار کرتے ہیں اور ہم جنہیں ہمارا مذہب حکم دیتا ہے کہ ہتھیار رکھو ہم کیوں نہ رکھیں مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص طور پر ہدایت کی تھی کہ گھر سے باہر نکلنے کے وقت لاٹھی رکھا کرو۔مذہب میں بھی یہی پسندیدہ بات ہے اس قسم کی سب چیزیں چستی چالا کی اور بہادری پر دلالت کرتی ہیں ان کی طرف ہمارے دوستوں کو توجہ - کرنی چاہئے۔یہاں یہ ذکر کر دینا مناسب ہے کہ احمدیوں میں جو آیتک سونا ہاتھ میں رکھنے کا کچھ عمل ہے وہ اسی تحریک کا نتیجہ ہے جو قرآن کریم کی ہدایت کے عین مطابق ہے۔احمدیہ یونیورسٹی کی داغ بیل مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم۔اے نے مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کے موقعہ پر پہلی بار یہ تحریک کی کہ ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے نصف صدی ہونے کو ہے اور ہمارے مدارس بھی ۲۵ سال سے قائم ہیں مگر ابھی تک ہم نے یونیورسٹی کی شکل پورے طور پر اختیار نہیں کی۔حالانکہ ایک بڑھتی ہوئی قوم کی ترقی کو صحیح لائنوں پر چلانے کے لئے ایک مستقل اور مکمل یونیورسٹی کا قائم ہونا ضروری ہے۔ہمارے زمانے کے حالات اس سرعت سے بدل رہے ہیں کہ میرے نزدیک اب وقت آگیا ہے۔کہ ہم احمد یہ یونیورسٹی کی شکل کو ایک چھوٹے پیمانے پر قواعد و ضوابط کے ساتھ قائم کر کے محفوظ کر دیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک مفصل سکیم بھی پیش کی جس پر حضرت خلیفہ المسیح نے ایک سب کمیٹی مقرر فرمائی جس کے ممبر حسب ذیل تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ، حضرت میر محمد اسحاق صاحب قاضی محمد اسلم صاحب، چوہدری اسد اللہ خان صاحب مشی برکت علی صاحب لائق لدھیانوی ملک غلام رسول صاحب شوق چوہدری فضل احمد صاحب - مولوی محمد دین صاحب مرزا عبد الحق صاحب چوہدری غلام حسین صاحب چوہدری محمد شریف صاحب وکیل - شیخ عبدالرحمان صاحب مصری اس کمیٹی نے اس سکیم کو ضرورت سے زیادہ مفصل اور پیش از وقت قرار دیا۔اور اس کی بجائے