تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 146
تاریخ احمدیت جلد ۵ ضروری ہے۔مثلاً 142 عیادت خواجہ کمال الدین صاحب حضور ۱۹۲۹ء کو بذریعہ موٹر ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو ساتھ لے کر خواجہ کمال الدین صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو نشاط باغ کے آگے سرینگر سے ۵۰۰ فٹ کی بلندی پر خیمہ میں رہائش پذیر تھے۔حضور ایک گھنٹہ تک خواجہ صاحب کے پاس تشریف فرمار ہے۔حضور اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔”اسلامی سنت کو پورا کرنے کے لئے اور اس وجہ سے کہ میں چھوٹا تھا اور مدرسہ میں پڑھتا تھا خواجہ صاحب نے تین چار دن مجھے حساب پڑھایا تھا اور اس طرح وہ میرے استاد ہیں میں ان کی عیادت کے لئے گیا تھا۔موقع کے لحاظ سے ان کی بیماری کے متعلق باتیں ہوتی رہیں "۔یاری پورہ کے جلسہ میں شرکت: ۱۵/ اگست ۱۹۲۹ء کو جماعت احمدیہ یاڑی پورہ کا جلسہ منعقد ہوا جس میں حضور معہ مولانا محمد اسمعیل صاحب ہلالپوری ، مولوی قمر الدین صاحب ، مولوی عبدالرحیم صاحب درد بذریعہ موٹر تشریف لے گئے۔احباب جماعت نے حضور کا شاندار استقبال کیا جلسہ گاہ میں جو مسجد احمدیہ کے صحن میں بنائی گئی تھی۔خوب آراستہ کی گئی تھی۔نماز ظہر و عصر پڑھانے کے بعد حضور نے ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے کئے جاتے ہیں اور بڑے چھوٹے۔تقریر میں صحابہ کرام کی مثالیں پیش کر کے احمدی احباب کو خدمت اسلام، تبلیغ احمدیت اور بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی۔اور آخر میں ارشاد فرمایا۔میں جماعت کے لوگوں کو اس طرف خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں خواہ کوئی تاجر ہو یا واعظ زمیندار ہو یا گورنمنٹ کا ملازم خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک کو سب سے اول اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئے اور لوگوں کے سامنے اپنا ایسا نمونہ پیش کرنا چاہئے کہ جو کوئی دیکھے پکار اٹھے خدا رسیدہ لوگ ایسے ہوتے ہیں اگر ایسی حالت ہو جائے تو پھر دیکھ لو احمدیت کی ترقی کے لئے کس طرح رستہ کھل جاتا ہے"۔یاری پورہ میں قریباً چونسٹھ افراد نے بیعت کی۔جموں میں تقریر: سرینگر سے واپسی پر حضور نے ایک روز جموں میں قیام فرمایا۔جہاں ۳۰/ ستمبر ۱۹۲۹ء کو آپ نے ایک اہم تبلیغی تقریر فرمائی جس میں طالبان حق کو بڑے پر جوش الفاظ میں توجہ دلائی کہ وہ بچے مذہب اور بچی جماعت کی تلاش میں خدا تعالیٰ سے بذریعہ دعار ہنمائی طلب کریں۔