تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 147 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 147

تاریخ احمدیت جلد ۵ دو سرا باب (فصل سوم) 143 خلافت عثمانیہ کا سولہواں سال حضرت حافظ روشن علی صاحب "عبد الکریم ثانی کی وفات علامہ حضرت حافظ روشن علی کی وفات ۱۹۲۹ء کا روح فرسا واقعہ حضرت حافظ روشن على ال جیسے مثالی عالم ربانی کی وفات ہے YA جو ۲۳ جون ۱۹۲۹ء کی شام کو واقع ہوئی۔حضرت میر محمد اسحاق کے الفاظ میں " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت نور الدین اعظم کو چھوڑ کر سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کی وفات کے بعد کوئی حادثہ حافظ صاحب مرحوم کے حادثہ جیسا نہیں ہوا۔جماعت احمدیہ نے یہ عظیم صدمہ کتنی شدت سے محسوس کیا اس کا اندازہ اس سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ حضرت حافظ صاحب کی یاد میں کئی ماہ تک مضامین شائع ہوتے رہے۔سلسلہ کے بزرگوں اور شاعروں نے عربی اردو اور فارسی میں دردناک مرنے کے اور آپ کے شاگردوں اور مرکزی اداروں اور بیرونی جماعتوں کی طرف سے تعزیتی قرار دادیں پاس کی گئیں۔حتی کہ سلسلہ کے مشہور " مخالف جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنے اخبار " اہلحدیث " میں لکھا۔حافظ روشن علی قادیانی جماعت میں ایک قابل آدمی تھے۔قطع نظر اختلاف رائے کے ہم کہتے ہیں کہ موصوف خوش قرأت خوش گو تھے۔مناظرے میں متین اور غیر دلآزار تھے۔مرزا صاحب کے راسخ مرید تھے ہمیں ان کی وفات میں ان کے متعلقین سے ہمدردی ہے "۔اخبار "پیغام صلح " لا ہو ر نے لکھا۔" حافظ روشن علی صاحب ایک مشدد محمودی تھے۔محمودیت کی حمایت میں انہوں نے ہمیشہ غالیانہ سپرٹ کا اظہار کیا۔تاہم ان میں بعض خوبیاں بھی تھیں جن کی وجہ سے ان کی موت باعث افسوس ہے حافظ صاحب حضرت مولانا نور الدین صاحب مرحوم کے شاگردوں میں سے تھے نہایت ذہین، خوش بیان خوش الحان اور عالم آدمی تھے۔نہ صرف علوم اسلامیہ پر کافی عبور تھا بلکہ غیر مذاہب سے بھی خاصی واقفیت رکھتے تھے اور آریہ سماج کے ساتھ کئی مناظرے انہوں نے کئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی حضرت حافظ صاحب کی وفات کے وقت چونکہ سرینگر میں مقیم تھے۔اس لئے امیر مقامی حضرت مولوی شیر علی صاحب نے حضور کو بذریعہ تار اطلاع دی۔جس پر