تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 145
جلده سرینگر) 141 خلافت ثانیہ کا سولہواں۔۔بعض قربانیاں ایسی کرنی پڑتی ہیں جن کا نفع فوری طور پر نظر نہیں آتا مگر اس کے پس پردہ بہت عظیم الشان فوائد ہوتے ہیں انبیاء کے حقیقی متبعین بھی قربانیاں کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔۔۔ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ بلحاظ ایمان کے پتھر کی چٹان کی طرح ثابت ہوں۔۔۔۔ماموروں کا کام نئی زندگی پیدا کرنا ہوتا ہے انبیاء کی جماعتوں کے ہر فرد کو سمجھنا چاہئے کہ میرے ہی ذریعہ دنیا کی نجات ہوگئی۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس قسم کے چالیس مومنوں کی خواہش رکھتے تھے کہ اگر ہماری جماعت میں پیدا ہو جائیں تو پھر تمام دنیا کا فتح کرنا آسان ہو جاتا ہے " فرموده ۲۸/ جون ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر) ان اصول کے ذریعہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائے ہیں قرآن اور حدیث کے مطالب حل کرنا ایک کھلی بات ہو گئی ہے اور ہمارے دوستوں کے لئے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث پر تدبر کریں اور خصوصاً نوجوانوں کو بہت زیادہ توجہ کرنی چاہئے کیونکہ ہر ایک قوم نو جوانوں کی کوشش سے ترقی کرتی ہے۔( فرموده ۲/ اگست ۱۹۲۹ء بمقام آڑو کشمیر ) -اهدنا الصراط المستقیم میں یہ سکھایا گیا ہے کہ اے خدا ہمیں کام کے مسلمان بنا ہم نام کے مسلمان نہ ہوں کیونکہ نام کی کچھ حقیقت نہیں اصل چیز کام ہے "۔(فرمودہ ۱۹/ جولائی ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر) ے۔"پاک لوگوں کا دل خدا تعالیٰ کی محبت اور الفت میں اس قدر گداز ہوتا ہے کہ گویا اس کے مقابلہ میں جسم نے کچھ کیا ہی نہیں ہوتا۔یہی وہ درجہ ہے جس کے لئے ہر ایک مومن کو کوشش کرنی چاہئے اس کے لئے رسول کریم انا نے فرمایا ہے۔انسان کے جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو گیا اور اگر وہ خراب ہو گیا تو سارا جسم خراب ہو گیا۔الا وھی القلب سنو وہ دل ہے پس اصل چیز انسان کے دل کی پاکیزگی ہے " - (فرموده ۹/ اگست ۱۹۲۹ء بمقام پہلگام) ان سات مختصر اقتباسات سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ کشمیر اور دوسرے مسلمانوں کو بیدار کرنے کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ ریاست کے مسلمانوں میں زندگی کی ایک نئی روح پیدا ہو جائے۔سفر کشمیر کے دوسرے قابل ذکر واقعات اس خصوصی قسم کے علاوہ منظر کشمیر کے کئی اور قابل ذکر واقعات بھی ہیں جن کا بیان کرنا