تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 114
تاریخ احمدیت۔جلدی 110 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال ۱۰۲- مثلاً فاطمہ بیگم صاحبہ المیہ ملک کرم الہی صاحب ضلع دار - مریم بیگم صاحبہ المیہ حضرت حافظ روشن علی صاحب ہاجرہ بیگم صاحبہ المیہ ایڈیٹر الفضل سکنیتہ انساء بیگم صاحبہ قادیان - نسیم صاحبہ المیہ ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب کیمبل پور عزیزہ رضیہ صاحبہ اہلیہ مرزا گل محمد صاحب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر گو ہر الدین صاحب مانڈلے بربیا۔امتہ الحق صاحبہ بنت حضرت حافظ روشن علی صاحب - ۱۳ مثلاً حکیم برہم صاحب ایڈیٹر اخبار " مشرق گورکھپور - جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی ایڈیٹر ” منادی " ۱۰۴ لالہ دنی چند صاحب ایڈووکیٹ انبالہ ۱۰۵۔بعض نعت لکھنے والے حضرت منشی قاسم علی صاحب رامپوری۔مولوی برکت علی صاحب لائق لدھیانہ - حضرت خان صاحب مولوی ذو الفقار علی خان صاحب جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر بی۔اے۔ایل ایل بی وکیل کپور تھلوی - اخبار مشرق (گورکھپور نے اس نمبر پر یہ ریویو کیا کہ اس میں حضرت رسول کریم ال کے سوانح حیات وواقعات نبوت پر بہت کثرت سے مختلف اوضاع و انواع کے مضامین ہیں اور ہر مضمون پڑھنے کے قابل ہے ایک خصوصیت اس نمبر میں یہ ہے کہ ہندو اصحاب نے بھی اپنے خیالات عالیہ کا اظہار فرمایا ہے جو سب سے بہتر چیز ہندوستان میں بین الاقوامی اتحاد پیدا کرنے کی ہے دوسری خصوصیت یہ ہے کہ مردوں سے زیادہ عورتوں نے اپنے پیغمبر کے حالات پر بہت کچھ لکھا ہے “۔(۲۱ / جون ۱۹۲۸ء (بحوالہ الفضل ۳/ جولائی ۱۹۲۸ء) صفحہ ۳ کالم (۳) ۱۰۷- یہ تینوں باتیں غلط تھیں اور واقعات نے ان کا غلط ہونا ثابت کر دیا (1) مولوی ابو الکلام صاحب آزاد ڈاکٹر کچلو صاحب ڈاکٹر مختار صاحب انصاری اور سردار کھڑک سنگھ صاحب جیسے کانگریسی لیڈریا تو بعض جلسوں کے پریذیڈنٹ ہوئے یا اس کے دائی بنے جس سے ظاہر ہے۔کہ حکومت کے ساتھ اس تحریک کا کوئی تعلق نہیں تھا۔(۲) ان جلسوں پر جماعت احمدیہ کا پندرہ ہزار کے قریب روپیہ صرف ہوا۔لیکن جماعت نے کسی ایک پیسہ کا بھی چندہ نہ مانگا البتہ لکھنو اور کئی دوسرے مقامات میں مسلمانوں نے خود جلسہ کے انعقاد کے لئے رقوم بھیجیں جو انہیں کے انتظام کے ماتحت اس کام پر خرچ ہو ئیں (۳) سارے ہندوستان میں منعقد ہونے والے جلسوں میں سے صرف ایک تقریر کے متعلق کہا گیا کہ اس میں احمدیت کی تبلیغ کی گئی مگر وہ تقریر بھی ہندوؤں کے خلاف تھی۔پھر ان جلسوں میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ، حیدر آباد دکن کے صدر الصدور مولوی حبیب الرحمن خان صاحب شروانی علماء فرنگی محل اور جناب ابو الکلام صاحب آزاد کا کسی نہ کسی رنگ میں حصہ لینا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ایسے جلسوں میں احمدیت کے مخصوص عقائد کی تبلیغ ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔(الفضل ۲۴/ جولائی ۱۹۲۸ء صفحه ۶۰۵ کالم ۲-۳) ۱۰۸- چنانچہ مولوی محمد علی صاحب مرحوم پریذیڈنٹ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے خود اقرار کیا کہ ان جلسوں میں میاں صاحب کے ساتھ ہم نے اشتراک عمل نہیں کیا۔(پیغام صلح یکم ستمبر ۱۹۲۸ء صفحہ ۲) اس کے مقابل ان کا گذشتہ طرز عمل یہ تھا کہ انہوں نے ایک عرصہ قبل کانگریس کے لیڈر مسٹر گاندھی کی قیادت میں چلائی ہوئی تحریک خلافت کے ساتھ وابستگی ضروری خیال کی چنانچہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے موجودہ امیر جناب مولوی صدر الدین صاحب کا بیان ہے کہ "میں نے انگریزی راج کے خلاف ہندوستان میں اور خود انگلستان میں متعدد لیکچر دیئے تھے اور سالہا سال تک کانگریس اور تحریک خلافت سے تعاون کرتے ہوئے کھدرپوش بنا رہا "۔(کامیاب زندگی کا تصور صفحہ ۱۱۲ مولف پروفیسر انور دل شائع کردہ مکتبہ جدید لاہور من طبع اول مارچ ۱۹۹۴ء - افسوس ان حضرات کو سیرت النبی ﷺ کی عالمگیر تحریک بھی جماعت احمدیہ قادیان سے اتحاد عمل پر آمادہ نہ کر سکی۔اور بعض غیر مبایعین نے بیان کیا کہ ہمیں الجمن نے ان میں حصہ لینے سے روکا ہے اور دو چار مقامات کے سوا بحیثیت قوم فریق لاہور نے اس کا بائیکاٹ ہی کیا۔جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس تحریک کے بانی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی تھے اور یہ آواز قادیان سے بلند ہوئی تھی۔مگر چونکہ غیر مسلموں کو اسلام تک لانے کی موثر ترین صورت یہی تھی جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے تجویز فرمائی تھی اس لئے بالآخر ان کو بھی تسلیم کرنا پڑا۔کسی موقعہ پر یہ آواز بلند کر دینے سے کہ فلاں شخص نے رسول اللہ الله کی شان میں گستاخی کر کے ہمارا دل دکھایا ہے حقیقت کوئی اصلاح نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات اپنے غیظ و غضب کے اظہار سے بڑھ کر اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔اگر ان گستاخیوں کا سد باب کرنا ہے اگر اس ملک میں اشاعت اسلام کے لئے کوئی عملی راستہ کھولنا ہے تو