تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 115
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 111 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال -It⚫ اس کے لئے سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ آنحضرت کے صحیح حالات کو ہر طبقہ کے لوگوں تک پہنچایا جائے"۔(پیغام صلح ضمیمه ۳۰/ اکتوبر ۱۹۲۸ء صفحه ۲ کالم ۳) 19 اخبار مخبر اودھ نے جلسہ لکھنو کے موقعہ پر آپ کی تقریر کے بارے میں لکھا۔" پھر مولوی اللہ دتہ صاحب احمدی پلیٹ فارم پر تشریف لائے آپ نے موثر طریقہ سے حضور کی زندگی کا شاندار پہلو کھایا پرانے خیالات کے بزرگ اور ینگ پارٹی کے نوجوان مسلمان آپ کی تقریر سے نہایت خوش ہوئے۔آپ نے ثابت کر دیا کہ آنحضرت ا دنیا کے لئے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ اور خدا کی رحمت تھے اہل مجلس کی استدعا پر آپ کو مزید وقت دیا گیا جس روز مولوی اللہ ورتہ صاحب لکھنو سے قادیان تشریف لے جارہے تھے تو احمدیوں کے علاوہ دیگر فرقوں کے مسلمان بھی اسٹیشن پر موجود تھے جنہوں نے رخصت کے وقت آپ سے مصافحہ کیا " ( مخبر او ده ۲۶/ جون ۱۹۲۸ء بحواله الفضل ۳/ جولائی ۱۹۲۸ء صفحہ ۹ کالم (۳) کلکتہ کے اخبار "دی انگلش مین " (۱۸/ جون ۱۹۲۸ء) نے اور "دی امرت بازار پتر کا" (۱۹ / جون) نے جلسہ سیرت النبی کلکتہ کی رپورٹ شائع کی جس میں آپ کی تقریر کا بھی ذکر کیا۔(ملاحظہ ہو الفضل ۶ / جولائی ۱۹۲۸ء صفحہ ۹ کالر) آپ نے ۱۷ جون کا جلسہ ریل گاڑی میں کیا۔جس کی دلچسپ تفصیل آپ کے الفاظ میں یہ ہے کہ "۱۷/ جون ۱۹۲۸ء کو میں کراچی میں تھا۔اس دن دہاں کے اس جلسہ میں شریک ہونے کو دل چاہتا تھا۔مگر مجبوری تھی ٹھہر نا مشکل تھا آخر ۳ بجے کی گاڑی میں سوار ہو گیا اور اپنی سیٹ پر کھڑے ہو کر حضرت رسول کریم ﷺ خاتم انسین کی سیرت پر لیکچر دینا شروع کر دیا۔جب دو سرا اسٹیشن آیا تو اس کمرہ سے نکل کر دو سرے کمرہ میں جا پہنچا اور وہاں لیکچر کر دیا۔غرضیکہ اسی طرح بفضلہ تعالی سات گاڑیوں میں پہنچ کر ۱۷/ جون کو ۳ بجے سے ۱۲ بجے تک میں نے لیکچر دئیے جن کو ہندو مسلمان ، سکھ، عیسائی غرضکہ ہر طبقہ نے پسند کیا۔(الفضل ؟ جولائی ۱۹۲۸ء صفحہ سے کالم ) ملک فضل حسین صاحب نے جو بک ڈپو تالیف و اشاعت کے مینجر کے فرائض سر انجام دے رہے تھے غیر مسلم اصحاب کی بعض تقاریر دنیا کا ہادی اعظم غیروں کی نظر میں" کے نام سے دسمبر ۱۹۲۸ء میں شائع کر دیں۔جنوبی ہندوستان میں ایک تھیو سائیکل سوسائٹی کے ذریعہ اس کے حلقہ اثر کے اندر ۳۰ کے قریب جلسے ہوئے (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحه ۲۰۶) -ur - آپ نے تحریک کی افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا میں مسٹری آرد اس کی برسی کے جلسہ کا بھی صدر تھا مگر وہاں اتنی حاضری نہ تھی۔جتنی یہاں ہے۔۱۵- آپ نے کہا کہ میں بہت ضروری کام چھوڑ کر آیا ہوں۔کیونکہ اس میں شمولیت سب سے ضروری تھی آئندہ بھی اگر ایسے جلسے منعقد ہوں گے تو خواہ کتناہی کام مجھے در پیش ہو گا میں اس پر ایسے جلسہ میں شمولیت کو مقدم کروں گا۔(الفضل ۲۴/ جولائی ۱۹۲۸ء نم الفضل ۲۶/ جولائی ۱۹۲۸ء صفحه ۳-۴- تفصیل رپورٹوں کے لئے ملاحظہ ہو۔الفضل ۲۲ جون ۲۲ جون ۳۰ / جولائی ۶ / جولائی ۱۰ جولائی ۱۷-۲۴ جولائی ۱۹۲۸ء۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحه ۲۰۶ ۱۱۸ ملاحظہ ہو تفسیر حضرت محی الدین ابن عربی سورہ بنی اسرائیل زیر آیت علی ان یبعثک ریگ مقاما محمودا 119 بحواله الفضل ۲۹/ جون ۱۹۲۸ء صفحه ۱۶ ۱۲۰ بحوالہ الفضل ۳/ جولائی ۱۹۲۸ء صفحہ ۹ ۱۲۱ بحوالہ الفضل ۶ / جولائی ۱۹۲۸ء صفحہ ۹ کالم ۲ ۱۲۲ بحوالہ الفضل ۱۰/ جولائی ۱۹۲۸ء صفحہ ۱۱ ۱۳۳- بحوالہ الفضل ۷ ار جولائی ۱۹۲۸ء صفحہ ؟ ۱۲۴- مثلا اخبار ہمدم (لکھنو) وکیل (امرت سر) مشرق (گورکھپور) کشمیری گزٹ (لاہور) "حقیقت" خادم المومنین "" منادی " ( دیلی) "اردو اخبار " (ناگپور) " پیشوا" اور "حق" منبر" (اودھ) توحید " (کراچی) اس کے علاوہ جزوی طور پر غیر مسلم اخبارات نے