تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 104 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 104

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 100 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال مفت تقسیم ہوتے تھے اور تاپا تو ان میں بھی بھیجے جاتے تھے۔شام و فلسطین - شامی علماء و مشائخ کا ایک وفد شام کی فرانسیسی حکومت کے رئیس الوزراء شیخ تاج الدین صاحب کے پاس پہنچا کہ احمدی مبلغ کو دمشق سے نکال دینا چاہئے۔چنانچہ فرانسیسی حکومت نے تاریخ ۹ / مارچ ۱۹۲۸ء علامہ جلال الدین صاحب شمس کو ۲۴ گھنٹے کے اندر اندر شام سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔جس پر آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں تار بھیجا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔حضور نے جواباً ارشاد فرمایا کہ حیفا چلے جائیں۔اس ارشاد عالی کی تعمیل میں آپ نے تاریخ ۱۵ ر مارچ ۱۹۲۸ء السید منیر المعنی صاحب کو دمشق میں اپنا قائم مقام بنایا اور ۱۷/ مارچ کو حیفا تشریف لے گئے۔اور فلسطین مشن کی بنیاد رکھی۔مولانا شمس صاحب ۳ / جون ۱۹۲۸ء کو فلسطین کی دادی اسیاح میں تشریف لے گئے۔اتفا قاشیخ محمد المغربی الطرابلسی سے ملاقات ہو گئی معلوم ہوا کہ یہ بزرگ در پرده ۲۳ سال سے حضرت مسیح موعود کی بیعت کر چکے ہیں۔اس ملاقات کے بعد آپ اپنے شاگردوں سمیت علانیہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔آسٹریلیا۔آسٹریلیا میں ۲۸ / دسمبر ۱۹۲۸ء کو جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ منعقد ہوا جس میں احمدیوں کے علاوہ دوسرے مسلمان بھی شامل ہوئے۔صوفی محمد حسن موسیٰ خاں صاحب آنریری مبلغ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی اور سلسلہ کے حالات سنائے جس کا خدا کے فضل سے اچھا اثر ہوا۔یہ جلسہ احمدیت کے لئے آسٹریلیا میں آئندہ جلسوں کے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا تھا۔مبلغین احمدیت کی ممالک غیر کو روانگی اور واپسی 1- خان صاحب فرزند علی خاں صاحب (۲۲- اپریل ۱۹۲۸ء کو) اور صوفی عبد القدیر صاحب نیاز (۳/ اگست ۱۹۲۸ء کو) انگلستان میں اور صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی ۲۱ مئی (۱۹۲۸ء) E کو امریکہ میں تبلیغ اسلام کے لئے قادیان سے روانہ ہوئے۔-۲- ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے اور مولوی عبد الرحیم صاحب درد انگلستان میں کئی سال تک تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دینے کے بعد بالترتیب ۸/ جولائی ۱۹۲۸ء اور ۲۲ / اکتوبر ۱۹۲۸ء کو واپس تشریف لے آئے۔ان مبلغین نے واپسی پر سمرنا ، قسطنطنیہ ، دمشق بغداد میں بھی پیغام حق پہنچایا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی درد صاحب کے استقبال کے لئے دوسرے احباب قادیان کے ساتھ پا پیادہ شہر سے قریباً اڑھائی تین میل یا ہر بٹالہ کی سڑک کے موڑ پر تشریف لے گئے۔اور معانقہ کیا۔