تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 90
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 86 خلافت ثانیہ کا پندرھواں الاولون میں سے تھے۔یکہ تو کرایہ پر لے لیتے مگر صرف بستر اس کے پیچھے بندھوا دیتے۔اور دو سرے لوگوں کو بٹھا دیتے اور خود تمام راستہ پیدل ہی طے فرما کر قادیان پہنچتے۔یکہ میں بیٹھ کر سفر کا کوئی حصہ تو شاید ہی کبھی آپ نے طے کیا ہو۔سفر کا زیادہ حصہ تو اور حضرات کو بھی پیدل ہی طے کرنا پڑتا تھا اور برسات کے موسم میں تو خدا کی پناہ۔بعض اوقات سارا سارا دن چلنے پر بھی قادیان پہنچ جانا ممکن نہ تھا۔یکے دلدل میں پھنس جانے پر تو ایسی مصیبت پیش آتی جو برداشت سے باہر ہو جاتی۔سامان مزدوروں کے سر پر آتا اور سواریاں بدقت پیدل چل کر 11 یکہ بان مجبور ہو کر گھوڑا اپنے ساتھ لے آتا اور یکہ سڑک پر کھڑا رہ جاتا۔قادیان کی بستی نشیب میں واقع ہے۔برسات میں چاروں طرف سے پانی کا سیلاب آیا کر، تاجس سے گاؤں کے اردگرد کی ڈھا میں کھائیاں اور خندقیں پانی سے بھر جایا کر تھیں اور زائد پانی قریباً ڈیڑھ میل تک بٹالہ قادیان کی سڑک میں سے ہی گذرا کرتا جو بعض اوقات اتنا گہرا اور تیز رو ہو جاتا کہ اس میں سے سلامت گذر جانا بہت ہی دشوار ہو جاتا اور گاؤں صحیح معنوں میں ایک جزیرہ بن جایا کرتا۔یہ تھے وہ حالات جن میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سلسلہ کی ترقی اور قادیان کی ترقی کے بارے میں بشارتیں دی گئیں۔چنانچہ ۱۹۰۲ء میں آپ کو عالم کشف میں دکھایا گیا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا اور انتہائے نظر سے بھی پرے تک بازار نکل گئے الخ۔پھر اپریل ۱۹۰۵ء میں حضور نے رویا میں دیکھا کہ ”میں قادیان کے بازار میں ہوں اور ایک گاڑی پر سوار ہوں جیسے کہ ریل گاڑی ہوتی ہے"۔قادیان میں ریل گاڑی کے پہنچنے کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی ایک مشہور پیشگوئی ہے۔کئی صحابہ نے اسے خود حضور کی زبان مبارک سے سنا تھا حتی کہ انہیں حضور نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ قادیان کی ریلوے لائن نواں پنڈ اور بسراواں کی طرف سے ہو کر پہنچے گی۔چنانچہ روایات صحابہ میں مرزا قدرت اللہ صاحب ساکن محلہ چابک سواراں لاہور شاہ محمد صاحب ساکن قادیان اور میاں چراغ دین صاحب ولد میاں صدر الدین صاحب قادیان کی شہادتیں ملتی ہیں۔ان غیبی خبروں کے پورا ہونے کا بظا ہر کوئی سامان نظر نہیں آتا تھا بلکہ حکومت کی بے اعتنائی کا تو یہ عالم تھا کہ ریلوے لائن بچھوانے کا تو کیا ذکر صرف اتنی بات کی منظوری کے لئے کہ قادیان سے بٹالہ تک سڑک پختہ کر دی جائے اور اس کے لئے سالہا سال کوشش بھی جاری رکھی گئی تھی حکام وقت نے عملاً انکار کر دیا تھا بحا لیکہ دوسرے راستے اور سڑکیں آئے دن درست ہوتی رہتی تھیں لیکن اگر آخر تک بھی نوبت نہ آئی تو اس چھوٹے سے ٹکڑے کی جو بٹالہ اور قادیان کے درمیان تھا۔اور جیسا کہ