تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 89
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ فصل ششم 85 جیسا کہ " تاریخ احمدیت " کی دوسری جلد کے قادیان کی ترقی کا نیا دور اور ریل کی آمد شروع میں ہم بتا چکے ہیں کہ جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا سے حکم پا کر دعوئی ماموریت فرمایا تھا۔قادیان ایک بہت چھوٹا سا گمنام گاؤں تھا اس وقت قادیان کی آبادی دو ہزار نفوس سے زیادہ نہ ہوگی۔اس کے اکثر گھر ویران نظر آتے تھے۔اور ضروری استعمال کی معمولی معمولی چیزوں کی خرید کے لئے بھی باہر جانا پڑتا تھا۔اسی طرح اس وقت قادیان کی بستی تار اور ریل وغیرہ سے بھی محروم تھی۔اور دنیا سے بالکل منقطع حالت میں بڑی تھی۔قادیان کا ریلوے سٹیشن بٹالہ تھا۔جو قادیان سے ۱۲ میل مغرب کی طرف واقع ہے۔اس کے اور قادیان کے درمیان ایک ٹوٹی پھوٹی کچی سڑک تھی۔جس پر نہ صرف پیدل چلنے والے تھک کر چور چور ہو جاتے تھے بلکہ یکے میں سفر کرنے والوں کو بھی بہت تکلیف اٹھانا پڑتی تھی۔چنانچہ حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی اور بعض دوسرے بزرگوں کے چشم دید واقعات معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں سب سے پہلی مشکل تو اس بستی کی گمنامی کی وجہ سے اس کی تلاش تھی اور دوسرا بڑا بھاری مرحلہ قادیان پہنچنے کا تھا۔آمد و رفت کے ذرائع کی اتنی کمی تھی کہ سواری بڑی مشکل سے ملتی تھی اور اس زمانے کی سواریاں بھی کیا تھیں۔بیل گاڑی ڈیڑ ھو گڑا اور سب سے بڑھ کر دقیانوسی یکہ چلنے میں جھٹکوں کی کثرت سے پسلیاں دکھ جایا کرتیں، پیٹ میں درد اٹھنے لگتا اور جسم ایسا ہو جاتا کہ گویا کوٹا گیا ہے۔یکہ مل جانے کے بعد دوسری مشکل یہ ہوا کرتی تھی کہ یکہ بان غائب ہو جاتا۔وہ نہار لینے چلا جایا کرتا۔اور جب تک کئی مسافر ہاتھ نہ آجاتے اس کی نہاری تیار نہ ہو سکتی اور اس طرح بہت سانتیمتی وقت ضائع ہو جایا کرتا۔سڑک کی کیفیت لکھنے کی تو ضرورت نہیں کیونکہ اس کی تفصیل خود خداوند عالم الغیب نے فج عمیق کے کلام میں فرما دی ہے۔اس کی خرابی تو روز بروز بڑھتی رہتی مگر مرمت کی نوبت مدتوں تک نہ آتی۔چونکہ غلہ اور دوسری تمام ضروری چیزیں گڑوں ہی کے ذریعہ سے آتی جاتی رہتی تھیں اس لئے سڑک اور بھی خستہ و خراب رہتی تھی۔یکہ کی ایت ترکیبی کچھ ایسی واقع ہوئی تھی کہ اچھے خاصے تازے گھوڑے کا حال بھی چند ہی رو ز جو تے جانے ایسا پتلا ہو جاتا کہ دیکھنے والوں کے دل رحم سے بھر جاتے۔(کبھی یکہ سواریوں کو لے کر چلاتا اور کبھی سواریاں یکہ کو لے کر۔حضرت مولانا انوار حسین خان رئیس شاه آباد ضلع ہردوئی جو سابقون