تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 91
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 87 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی مشہور کتاب " سلسلہ احمدیہ " میں تحریر فرمایا ہے ہرگز امید نہ تھی کہ قادیان میں اس قدر جلد ریل آجائے گی۔لیکن خدا نے ایسا تصرف فرمایا کہ جماعتی کوشش کے بغیر اچانک یہ بات معلوم ہوئی کہ ریلوے بورڈ کے زیر غور بٹالہ اور بیاس کے درمیان ایک برانچ لائن کی تجویز ہے۔مگر پھر پتہ چلا کہ محکمہ ریل کے ذمہ دار افسروں کو یہ خیال ہوا کہ یہ ریلوے جسے بعد کو بٹالہ بوٹاری ریلوے کا نام دیا گیا ۱۹۳۰ء تک بھی تیار نہیں ہو سکتی۔مگر چونکہ خدا کی مشیت میں اب وقت آچکا تھا۔کہ قادیان کا مرکز احمدیت ریل کے ذریعہ پورے ملک سے ملا دیا جائے اس لئے ریلوے بورڈنے کے ۱۹۲ء کے آخر میں قادیان بوٹاری ریلوے کی منظوری دے دی اور شروع ۱۹۲۸ء میں محکمہ اطلاعات حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری طور پر یہ اعلان کر دیا گیا کہ ریلوے بورڈ نے نارتھ ویسٹرن ریلوے کے زیر انتظام پانچ فٹ چھ انچ پیسٹری کی بٹالہ سے بوٹاری تک ۴۲ میل لمبی ریلوے لائن بنانے کی منظوری دے دی ہے اس منصوبہ کا نام بٹالہ بوٹاری ریلوے ہو گا ساتھ ہی گورنمنٹ گزٹ میں اعلان ہوا کہ سروے ہو چکا ہے اور لائن بچھانے کا کام جلد شروع ہونے والا ہے۔چنانچہ عملاً یہ کام نہایت تیزی سے جاری ہو گیا۔اور شب و روز کی زبردست کوشش کے بعد بالآخر ۱۴/ نومبر ۱۹۲۸ء کو ریل کی پنسری قادیان کی حد میں پہنچ گئی۔اس دن سکولوں اور دفتروں میں تعطیل عام کر دی گئی اور لوگ جوق در جوق ریلوے لائن دیکھنے کے لئے جاتے رہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ نئے راستے کھلنے پر کئی قسم کی مکروہات کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔اس لئے ساری جماعت اور مرکز سلسلہ کے لئے ریل کے مفید اور بابرکت ہونے کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں اور صدقہ دینا چاہئے۔چنانچہ قادیان کی تمام مساجد میں دعائیں کی گئیں اور غرباء و مساکین میں صدقہ تقسیم کیا گیا۔۱۶/ نومبر ۱۹۲۸ء کو ریلوے لائن قادیان کے سٹیشن تک عین اس وقت پہنچی جبکہ جمعہ کی نماز ہو رہی تھی۔نماز کے بعد مرد عور تیں اور بچے اسٹیشن پر جمع ہونے شروع ہو گئے اور قریباً دو اڑھائی ہزار کا مجمع ہو گیا۔ریلوے کے مزدوروں اور ملازمین کے کام ختم کرنے پر ان میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔جس کا انتظام مقامی چندہ سے کیا گیا تھا۔اب صرف اسٹیشن کی تعمیر اور ریلوے لائن کی تکمیل کا کام باقی تھا۔جو دن رات ایک کر کے مکمل کر دیا گیا۔قادیان کے سب سے پہلے اسٹیشن ماسٹر بابو فقیر علی صاحب مقرر ہوئے۔اور اسٹیشن کا نام ” قادیان مغلاں " تجویز کیا گیا۔پہلے بتایا جا چکا ہے کہ لائن کے بوٹاری تک جانے کا فیصلہ ہوا تھا مگر ابھی لائن قادیان کے حدود تک نہیں پہنچی تھی کہ ریلوے حکام نے قادیان سے آگے لائن بچھانے کا فیصلہ ملتوی کر دیا۔اور نہ صرف اگلے حصہ کی تعمیر رک گئی بلکہ آگے بچھی ہوئی ریلوے لائن اکھاڑ +21 MA