تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 81
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 77 خابافت تانیہ کا پندرھوار آل مسلم کانفرنس نے اس بارے میں یہ قرارداد پاس کی کہ ”اگر کسی قوم کے ۳/۴ ارکان اپنی قوم کے مفاد کے منافی سمجھ کر کسی مسودہ قانون یا قانون یا اس کا کوئی جزو یا ترمیم یا قرار داد کی مخالفت کریں تو ایسا مسودہ قانون یا قانون یا اس کا کوئی جزو یا ترمیم یا قرار داد مجلس وضع قوانین میں پیش نہ ہو سکے نہ اس پر بحث کی جائے اور نہ یہ منظوری حاصل کر سکے۔اس مختصر سے نقابل سے ظاہر ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور ان کے مفادات کی حفاظت کے لئے جو مطالبات ضروری سمجھے اور جنہیں اچھی طرح واضح فرمایا ان کی اہمیت کو آل مسلم کانفرنس پٹنہ نے بھی تسلیم کیا۔اور اسی طرح ان مطالبات کو ان مسلمانوں کی تائید حاصل ہو گئی جو اپنے قومی حقوق کی ہر حال میں حفاظت کرنا ضروری سمجھتے اور ہندو سیاست کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنتا اپنی قومی موت کے مترادف یقین کرتے اور مسلمانوں کو فروخت کرنا قومی غداری قرار دیتے تھے - BRO حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے نہرو رپورٹ پر تبصرہ آل انڈیا مسلم لیگ اور نہرو رپورٹ نے مسلمانان ہند میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک زبر دست جنبش پیدا کر دی۔مگر افسوس کانگریسی علماء ہندوؤں کا آلہ کار ہونے کی وجہ سے اور مخلص مسلم لیگی زعماء اپنی خوش فہمی کے باعث ابھی تک اس کی پورے زور سے حمایت کئے جارہے تھے۔چنانچہ مسلم لیگ کے مورخ جناب سید رئیس احمد صاحب جعفری لکھتے ہیں: " دسمبر ۱۹۲۸ء میں کلکتہ قومی اجتماعات کا مرکز قرار پایا۔کانگریس مسلم لیگ مجلس خلافت سب کے سالانہ اجلاس نہیں ہو رہے تھے انہی اجلاسوں میں نہرو رپورٹ کے ردو قبول کا مسئلہ طے ہوتا تھا۔اب مسٹر جناح بھی واپس آچکے تھے وہ دیکھ رہے تھے اس رپورٹ نے ان کے چودہ نکات کا قتل عام کر دیا ہے۔پھر بھی وہ نہرو رپورٹ کی مخالفت نہیں کر رہے تھے بلکہ حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے لئے مولانا محمد علی کا نام مولانا شوکت علی نے مسلم لیگ کو نسل میں پیش کیا لیکن جناح نے راجہ صاحب محمود آباد سر علی محمد خان کے نام کی حمایت کی اس لئے نہیں کہ وہ محمد علی کے مخالف تھے۔اور علی محمد کے دوست تھے۔اس لئے کہ محمد علی نہرو رپورٹ کے علانیہ مخالف تھے اور علی محمد نہرو رپورٹ کے علانیہ حامی تھے جناح نہرو رپورٹ کے مخالف کو لیگ کے اجلاس کا صدر نہیں بنانا چاہتے تھے وہ چاہتے تھے کہ نہرو رپورٹ کا حامی مسلم لیگ کی صدارت کرے اور رپورٹ پر آخری غور و فکر کے لئے کانگریس کی طرف سے جو کنوینشن منعقد ہونے والی ہے اس میں دوستانہ اور مخلصانہ طور پر چند معمولی ترمیمات منظور کرا کے مسلمانوں کو نہرو رپورٹ منظور کر لینے پر آمادہ کرے تاکہ حکومت