تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 80 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 80

تاریخ احمدیت ، جلد ۵ 76 خلافت ثمانیہ کا بند رھواں سال کئے ان کا بڑا حصہ انہی امور پر مشتمل تھا جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے نہرورپورٹ کے تبصرہ میں درج فرمائے تھے۔چنانچہ حضور نے پہلا مطالبہ یہ فرمایا کہ حکومت کا طریق فیڈرل یا اتحادی ہو یعنی تمام صوبہ trr- جات کامل طور پر خود مختار سمجھے جائیں۔آل مسلم کانفرنس نے فیصلہ کیا۔صوبہ جاتی حکومتیں تمام اندرونی معاملات میں آزاد ہوں"۔دوسرا مطالبہ حضور کا یہ تھا کہ ”جن صوبوں میں کسی قوم کی اقلیت کمزور ہے ان میں اس کے ہر قسم کے خیالات کے لوگوں اور ہر قسم کے فوائد کی نیابت کا راستہ کھولنے کے لئے جس قدر ممبریوں کا اسے حق ہو اس سے زیادہ ممبریاں اسے دے دی جائیں۔لیکن جن صوبوں میں کہ اقلیت والی قوم یا اقوام مضبوط ہوں وہاں انہیں ان کی اصلی تعداد کے مطابق حق نیابت دیا جائے۔کیونکہ ان صوبوں میں اگر اقلیت کو زیادہ حقوق دیئے گئے تو اکثریت اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی۔کانفرنس نے اس سلسلہ میں یہ تجویز منظور کی۔” بہار اور اڑیسہ کے مسلمانوں کے لئے مرکزی اور صوبہ جاتی دونوں مجالس قانون ساز میں ۲۵ فیصدی نیابت مخصوص کی جائے اور اسی طرح دوسرے صوبہ جات کی مسلم اور غیر مسلم اقلیت کو بھی جس کا تناسب آبادی ۱۵ فیصدی سے زیادہ نہ ہو تناسب آبادی سے زیادہ نشستیں دی جائیں لیکن شرط یہ ہے کہ کوئی اکثریت اقلیت میں منتقل نہ ہو جائے“۔" حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تیسرا مطالبہ یہ پیش فرمایا تھا کہ "چونکہ کل ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد صرف پچیس فیصدی ہے اس لئے انہیں مرکزی حکومت میں کم سے کم ۳۳ فیصدی نیابت کا حق دیا جائے۔چنانچہ آل مسلم کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ " مرکزی مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کو کم از کم ۳/ نشستیں دی جائیں"۔چوتھا مطالبہ یہ تھا کہ " صوبہ سرحد اور بلوچستان کو دوسرے صوبوں کی طرح نیابتی حکومت دی جائے اور سندھ کو الگ صوبہ بنا کر اسے بھی نیابتی حکومت دی جائے “۔اس بارہ میں کا نفرنس کا فیصلہ یہ تھا۔"سندھ کو حقیقی معنوں میں علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے۔صوبہ شمال مغربی سرحد اور بلوچستان میں مکمل اصلاحات نافذ کی جائیں"۔پانچواں مطالبہ یہ تھا کہ ” قانون اساسی کا جو حصہ کسی خاص قوم کے حقوق کے متعلق ہو اس کے متعلق یہ شرط ہو کہ جب تک اس قوم کے ۲/۳ ممبر جس کے حقوق کی حفاظت اس قانون میں تھی اس کے بدلنے کے حق میں نہ ہوں اسے پاس نہ سمجھا جائے"۔