تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 82 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 82

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 78 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال برطانیہ کے سامنے ہندوستان اپنا متحدہ مطالبہ پیش کر سکے۔متحدہ مطالبہ متحدہ محاذ متحدہ دستور جناح کو اس قدر عزیز تھا کہ انہوں نے چودہ نکات سے بھی دست برداری اختیار کرلی۔اب وہ صرف چند مطالبات کانگریس سے منظور کرانا چاہتے تھے اور اس کے بعد پوری قوت کے ساتھ نہرو رپورٹ کی تبلیغ و حمایت کے لئے وقف ہو جانا چاہتے تھے " - al کلکتہ میں آل پارٹیز کنوینشن کا انعقاد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی مسلسل جدوجہد اور دوسرے مسلمانوں کی پیم چیخ پکار کا نتیجہ یہ نکلا کہ پنڈت موتی لال نہرو صدر کانگریس نے اعلان کر دیا۔کہ ایک نیشنل کنوینشن بلائی جائے گی۔چنانچہ اس اعلان کے مطابق ۲۸/ دسمبر ۱۹۲۸ء کو کلکتہ میں ایک آل پارٹیز کانفرنس نہرو رپورٹ پر غور کرنے ، ترمیمیں پیش کرنے اور آخری فیصلہ کرنے کے لئے منعقد ہوئی جس میں ہندوستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کو دعوت دی گئی۔چنانچہ اجلاس میں آزاد خیال معتدل کانگریسی ، سوراجی، ترک موالات کے علمبردار اور حامی موالات غرضکہ ہر خیال و مسلک کے لوگ شامل ہوئے۔خلافت کمیٹی اور جمعیتہ العلماء ہند نے متفقہ طور پر اپنا نمائندہ مولانا محمد علی جو ہر کو نامزد کیا۔اور وہ اس میں شرکت کے لئے آئے۔مسلم لیگ کی طرف سے جناب محمد علی صاحب جناح (۲۲) نامور مسلم لیگی نمائندوں سمیت) تشریف لائے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب (ناظر امور خارجہ ) اور مسٹر دولت احمد خان صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی جائنٹ ایڈیٹر اخبار " سلطان " کلکتہ نے شمولیت فرمائی۔کنوینشن میں مباحثہ کا آغاز ہوا۔اور غالبا سب سے پہلے یہ نکتہ زیر بحث آیا۔کہ کانگریس ہندوستان کے لئے درجہ نو آبادیات چاہتی ہے یا کامل آزادی کا مطالبہ کرتی ہے۔مولانا محمد علی صاحب جو ہر نے درجہ نو آبادیات کے مطالبہ کی مخالفت میں تقریر شروع کی۔اس دوران میں ان کے منہ سے یہ بھی نکل گیا۔کہ جو لوگ آزادی کامل کے مخالف اور درجہ مستعمرات کے حامی ہیں وہ ملک کے بہادر فرزند نہیں ہیں بلکہ بزدل ہیں۔اس لفظ کا منہ سے نکلنا تھا کہ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ بیٹھ جاؤ ہم نہیں سننا چاہتے۔"مسلمانان ہند کی حیات سیاسی " کے مولف جناب محمد مرزا صاحب دہلوی اس واقعہ کی تفصیل میں لکھتے ہیں۔" اس بحث کے دوران میں کانگریس کے ہندو ممبروں کی ذہنیت کا جو مظاہرہ ہوا اس نے مولانا محمد علی مرحوم کو بد دل کر دیا تھا۔اور وہ کنوینشن کے اجلاس سے اٹھ کر چلے آئے تھے۔یہ ذہنیت کیا تھی۔عقیدہ رکھا جائے آزادی کامل کا۔لیکن اگر حکومت کی طرف سے ڈومینین اسٹینس کا ابتدائی درجہ بھی مل جائے تو اسے قبول کر لیا جائے۔