تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 77
73 اور میری امید کا چھ کرنا پڑا کہ " ہم یہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔کہ نہرو رپورٹ کو ردی کے کاغذ کے برابر بھی وقعت نہیں دی گئی"۔ایک اہم مکتوب ہندوؤں کی سازش جماعت احمدیہ کے خلاف احمدی وکیل فضل کریم صاحب نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ : سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاته حضور کو قبل اس کے ہندوؤں کی مخالفت اور بغض کے متعلق کافی علم ہے۔مگر کل ہی مجھے ایک مسلمان وکیل دوست سے ایک ایسے امر کے متعلق علم ہوا کہ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ہندوؤں نے Organized ہمارا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور اس کی طرف اپنے عوام کو بھی توجہ دلا دلا کر تیار کر رہے ہیں۔خصوصیت سے گزشتہ ایک دو سال اور موجود ہندو رپورٹ کی ہماری طرف سے مخالفت نے آگ لگادی ہے۔اس دوست نے مجھے بتلایا کہ ایک ہندو نے مجھے بتلایا ہے کہ احمدی ملکی ترقی میں ایک زبر دست روک ہیں اس لئے ہم انہیں Crush کر کے چھوڑیں گے اور سارے ملک کے ہندوؤں نے یہ ٹھان لیا ہے اور اس کے لئے روپیہ کا بھی انتظام کیا جائے گا۔میں نے دوست سے دریافت کیا کہ وہ کس حیثیت کا انسان ہے تو انہوں نے بتایا کہ معمولی سا آدمی ہے۔جس سے یہ ظاہر ہے کہ عوام میں بھی ہماری مخالفت اور مقابلہ کی روح پھونکی جارہی ہے۔میں انشاء اللہ العزیز مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کروں گا مجھے تو یہ سن کر ایک پہلو سے خوشی ہوئی اور ایک پہلو سے فکر پیدا ہوئی خوشی تو اس لئے کہ ملک کی ایک زبر دست قوم بھی سلسلہ کی طاقت کو مان گئی اور روز افزوں ترقی سے گھبرا رہی ہے فکر اپنی کمزوریوں کا ہے کہ مقابلہ کی طاقت نہیں اللہ تعالیٰ ہی قوت عطا کرے گا۔خادم کو دعاؤں میں یاد فرمائیں۔خاکسار فضل کریم بنگالی مسلمانوں کی بیداری کے لئے بنگال اگر چہ مسلم اکثریت کا صوبہ تھا مگر پورے ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کا دورہ بنگال پر ہندو سرمایہ دار چھائے ہوئے تھے اور وہی زیادہ تر تعلیم یافتہ بھی تھے اس