تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 76 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 76

تاریخ احمدیت۔جلد ن ہوں " - Ho 72 خلافت ماشیہ کا پندرھواں سا برطانوی پارلیمنٹ کے ممبروں اور انگلستان کے اہل الرائے طبقہ تک مسلم نقطہ نگاہ پہنچانے کے لئے اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کر کے بھیجا گیا۔حضرت خلیفتہ مسلمانان ہند کی طرف سے رپورٹ کے خلاف کامیاب احتجاج المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ نے مسلمانان ہند سے ملی و قومی مفاد کی خاطر پورے نظام جماعت کو مصروف عمل کرنے کا جو ا وعدہ فرمایا۔وہ آپ نے پورا کر دیا۔چنانچہ حضور نے ۵/ اکتوبر ۱۹۲۸ء کے خطبہ جمعہ میں ہندوستان کے تمام احمدیوں کو حکم دیا کہ وہ ہر شہر ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں دوسرے لوگوں سے مل کر جلد سے جلد ایسی کمیٹیاں بنا ئیں جو نہرو کمیٹی کے خلاف جلسے کر کے لوگوں کو اس کی پیش کردہ تجاویز کے بد اثرات سے آگاہ کریں اور ریزولیوشن پاس کر کے ان کی نقول لاہور اور کلکتہ کی مسلم لیگوں ، مقامی حکومت حکومت ہند سائمن کمیشن اور تمام سیاسی انجمنوں اور پریس کو بھیجیں اور حکومت کو آگاہ کر دیا جائے کہ نہرو رپورٹ میں ہمارے حقوق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور یہ تحریک اس وقت تک جاری رہنی چاہئے۔جب تک ان باتوں کا فیصلہ نہ ہو جائے۔نیز فرمایا: " خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمار انظام ہے اس لئے ایک جگہ سے جو آواز اٹھتی ہے وہی پشاور سے لے کر آسام تک اور منصوری سے لے کر ر اس کماری تک ہر جگہ سے بلند ہوتی ہے۔اور سارے ملک میں شور بپا ہو جاتا ہے ایسا نظام اگر انسان خود پیدا کرنے کی کوشش کریں تو سینکڑوں سالوں میں بھی نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ تعالٰی نے مامور بھیج کر ہم پر احسان کیا کہ ایساز بر دست نظام منٹوں میں پیدا کر دیا۔اور جو کام کروڑوں مسلمان سالہا سال میں نہیں کر سکتے تھے وہ خدا کے فضل سے ہم نے کئے ہیں۔۔۔پیس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس نظام کو کام میں لا کر تحریک کریں تاکہ اس رپورٹ کے بداثرات سے مسلمانوں اور گورنمنٹ کو متنبہ کیا جاسکے اور تھوڑے عرصہ میں ہی ایسا مطلع پیدا کر دیا جائے جو اس غبار سے جو اس وقت اٹھ رہا ہے پاک وصاف ہو " - 21 چنانچہ جماعتوں نے حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں مسلمانوں کو بیدار کر دیا اور ملک کے چپہ چپہ ا میں احتجاجی جلسے کئے۔اور ہندوستان کے مسلمان ایک بار پھر اسی جوش و خروش سے ایک پلیٹ ارم پر جمع ہو گئے جس طرح حضرت امام جماعت احمدیہ کی سرفروشانہ جد وجہد نے انہیں ۱۹۲۷ء میں ، تحفظ ناموس رسول میں متحد و منسلک کر دیا تھا۔YEA بالا خر گاندھی جی جیسے کانگریسی راہنما کو اجلاس منعقدہ الہ آباد میں نہایت صاف گوئی سے اقرار