تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 78 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 78

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 74 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سال نازک صورت حال کے پیش نظر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے اکتوبر ۱۹۲۸ء میں ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے (سابق مبلغ جر منی و انگلستان) کو بنگال میں بھجوایا اور ارشاد فرمایا کہ نہرو رپورٹ کے خلاف بنگالی مسلمانوں میں تحریک پیدا کر دیں۔ملک صاحب نے کلکتہ ، چانگام اکھوڑہ ، برہمن، بڑیہ بوگرہ رنگپورہ جلپاگوری، کاکوره ، مالده جمشید پور وغیرہ مشہور مقامات کا دورہ کیا اور کئی مقامات پر زور دار لیکچر دیئے۔چنانچہ اکھوڑہ میں " حالات حاضرہ اور ان کا علاج" کے موضوع پر انگریزی زبان میں تقریر کی جو بہت پسند کی گئی بوگرہ میں آپ نے مقامی اخبارات کے لئے نہرو رپورٹ کے متعلق مضامین لکھے۔جن کو مقامی پریس کے علاوہ بنگال کے دوسرے اخبارات نے بھی شائع کیا۔رنگپورہ میں آپ نے ایک مقامی رئیس کی صدارت میں نہرو رپورٹ پر لیکچر دیا۔جلسہ میں قرار داد میں پاس ہو ئیں جو کلکتہ کے مشہور اخبارات فارورڈ اور انگلش مین میں بھی شائع ہو گئیں۔علاوہ ازیں فری پریس کو بھی تار دیا گیا۔اس لحاظ سے یہ میٹنگ بہت کامیاب ہوئی۔یہاں آپ نے بعض رؤساء سے انفرادی ملاقاتیں بھی کیں۔اور مسلمانوں کی اقتصادی و تعلیمی پستی کے متعلق تبادلہ خیالات کیا۔جلپا گوری میں بھی نہرو رپورٹ پر آپ کا لیکچر ہوا۔یہ مقام چونکہ کمشنری کا ہیڈ کوارٹر تھا اس لئے تعلیم یافتہ اصحاب بڑی کثرت سے شامل اجلاس ہوئے۔خان بہادر ڈاکٹر عبد العزیز صاحب صدر جلسہ تھے۔یہاں بھی ریزولیوشن پاس کر کے اخبارات کو بھیجے گئے لوگوں پر آپ کی تقریر کا بہت اچھا اثر ہوا۔ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کا خود نوشت بیان ہے کہ : میں اکتوبر ۱۹۲۸ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے بنگال کے دورہ پر گیا۔چلتے وقت حضور نے خصوصیت سے مجھے فرمایا کہ آپ نے صرف سیاسی تقریریں کرنی ہیں۔مذہبی تقریروں کی ضرورت نہیں۔میں نے وہاں برہمن بڑیہ کلکتہ نا ٹانگر ، رنگپور، جلیپا گوری بوگرہ وغیرہ میں نہرو رپورٹ کے خلاف حضور کے تحریر کردہ دلائل کو اپنی زبان میں پیش کیا۔میرے وہ لیکچر بہت ہی مقبول ہوئے۔وہ میرے کیا لیکچر تھے زبان میری تھی دلائل حضور کے تھے میں اب ان لوگوں کے نام تو نہیں جانتا۔کہ یہ ۳۷ سال پہلے کی بات ہے۔لیکن بوگرہ میں کئی خان بہادروں نے مجھے کہا کہ ہمارے تو وہم میں بھی یہ دلا کل نہ آئے تھے۔اور ہم نہیں سمجھ سکتے تھے کہ نہرو رپورٹ کا کیسے مقابلہ کریں۔آپ نے یہ دلائل کہاں سے سیکھے۔میری عمر اس وقت چھوٹی تھی وہ حیران تھے کہ ایک نوجوان ہندوستان کے اہم ترین سیاسی مسئلہ پر اس قابلیت سے کیسے اظہار کر رہا ہے اور کس قابلیت سے اس نے نہرو رپورٹ کے نیچے او نیٹ دیئے ہیں جس کے مقابلہ میں ہم عاجز تھے۔میں نے انہیں کہا کہ یہ دلائل تو احمد یہ جماعت