تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 669
یخ احمدیت - جلد ۳ 634 خلافت عثمانیہ کا چودھوان حواشی (ساتواں باب) پوسٹر کی نقل ۱۰ جون ۱۹۲۷ء کے الفضل میں شائع کر دی گئی تھی۔اختبار الفضل ماجون ۷ ۱۹۲ء صفحه ۶ تا ۸ اخبار گورو گھنٹال لاہور - ۲۷ جون سے ۱۹۲ء صفحہ ۲ م الفضل ۳ جون ۱۹۳۷ء صفحہ ۲ میں مفصل فیصلہ شائع ہو گیا تھا۔الفضل یکم جولائی ۱۹۲۷ء صفحه ۳ اخبار " انقلاب ۲۳۴ جون کے ۱۹۲ء ضمیمہ -N اور جدید لاہور ۱۷ اکتوبر ۱۹۳۳ صفی ۴۳ روزنامه ساست لاہور ۲۳ جون ۱۹۲۷ء صفہیم۔(ایضا مفصل روداد کے لئے ملاحظہ ہو الفضل یکم جولائی ۱۹۲۷ء) الفضل یکم جولائی کے ۱۹۲ ء صفحہ ۳-۸ لیکچر شمله صفحه ۳۳ از سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایه الله تعالی) الفضل ۲۵اکتوبر ۷ ۱۹۲ء صفحه ۴ الفضل ۳۰ اگست ۱۹۲۷ء صفحه ۳۵۱۸ الفضل ۲ نومبر۷ ۹۲ صفحه 1 اختبار دور جدید لاہور 14 اکتوبر نے ۱۹۲ء صفحہ ۲۰۰۳ اخبار گورو گھنتال لا ہو ر ا جولائی کے ۱۹۲ء صفحہ » عدالت کے مفصل فیصلہ کے لئے ملاحظہ ہو۔الفضل ۱۹ اگست ۱۹۲۷ء صفحہ ۵ تا ۱۰ ا الفضل ۱۲ اگست ۷ ۱۹۲ء صفحه ۱۰ اور افضل ۱۹ اگست ۱۹۲۷ء صفحه ۳ اخبار " مشرق ۲۳ ستمبر۷ ۱۹۳ ء بحوالہ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحه ۲۶۶۵ ۲۰ انقلاب ۳ اگست کے ہم بحوالہ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحہ ۶۶-۶۷- بالآخر یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی جماعت احمد یہ اور دوسرے غیور مسلمانوں کے برعکس بعض مسلمان لیڈروں نے ناموس رسول ﷺ کی خاطر اٹھائی جانے والی اس تحریک کا مکمل بائیکاٹ کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔چنانچہ جناب ابو الکلام صاحب آزاد نے ۲۹ جولائی ۱۹۲۷ء کو مولومی محی الدین صاحب قصوری کے نام خط لکھا کہ مجھے قطعا اس سے انکار ہے کہ چونکہ تاریخ نوع بشر کے ۱۹۲۷ء یا اس سے پہلے کسی برس میں ہندوستان کے ایک مجمول اور مجنون جہل کیڑے مکوڑے نے یادو نے یا تین نے ایک یا چند رسالے لکھ کر تاریخ انسانیت کی سب سے بڑی شخصیت کے خلاف بد زبانی کی ہے اس لئے اس کی ناموس کا خاتمہ ہو گیا۔اس کی عزت و حرمت کا سوال پیدا ہو گیا۔مجھے اس سے بھی قطعا انکار ہے انکار ہی نہیں بلکہ میں اسے اللہ کے برگزیدہ رسول ﷺ اور اس کے اہل بیت معمر کی بڑی سے بڑی تو ہین سمجھتا ہوں جو دنیا میں ہو سکتی ہے قطعا راجپال نے عالم انسانیت کی اس سب سے بڑی ہستی کی اتنی تو مہین نہیں کی جس قدر آپ لوگ کر رہے ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے اعمال کا محاسبہ نہیں کرتے آپ کو معلوم نہیں پچھلے دنوں کسی چیز نے مجھے اتنی اذیت نہیں دی جس قدر آپ کے فدائیان رسول کی ان نا قابل برداشت نفوجوں نے کبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الاكذبا لطف یہ ہے کہ آپ از راه جوش ایمانی مجھے بھی دعوت دیتے ہیں کہ اس میں حصہ لوں میرے عزیز اسی کو غنیمت سمجھو کہ اگر فرار ہو گئے اور مجھے مناسب معلوم نہ ہوا کہ اس بارے میں کچھ لکھوں ورنہ مضمون طیار تھالور کمپوز ہو رہا تھا اب وہ رہا ہو جائیں اور جو کچھ ہوتا ہے ہو جائے تو اپنا جو فرض اسلامی سمجھتا ہوں اس کے مطابق