تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 660 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 660

تاریخ 625 خلافت عثمانیہ کا چودھواں سال درخواست کی۔حضور نے اس کے جواب میں مندرجہ ذیل مکتوب رقم فرمایا۔میں پہلے ہی اس فکر میں تھا۔اس میں کیا شک ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو اختلاف سے نقصان پہنچ رہا ہے لیکن اس سے بڑھ کر مصیبت یہ ہے کہ مسلمان اس اختلاف کے نقصان کو سمجھ نہیں سکتے۔اور تیسری مصیبت یہ ہے کہ وہ اتحاد کے حقیقی ذرائع کو چھوڑ کر اپنے سوا دوسری ہر ایک آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔خداتعالی نے مختلف طبائع اس لئے پیدا کی ہیں۔کہ وہ قومی تمدن کی مختلف ضرورتوں کی طرف دلی رجحان سے توجہ کریں۔یہاں ہر ایک اختلاف کو منانے کی کوشش کی جاتی ہے میں آپ سے اس امر میں بالکل متفق ہوں کہ ایک عام تحریک سے پہلے چند آدمیوں کا ملکر اصول پر غور کرنا از بس مفید ہو گا۔مگر میرے نزدیک تحمیل عمل کے لئے ان پانچ افراد کے علاوہ جن کا آپ نے ذکر فرمایا ہے سر شفیع یا سر اقبال۔۔۔مسٹر جناح سر عبد القیوم مہاراجہ صاحب محمود آباد اور سر عبدالرحیم بھی اگر ابتدائی مشورہ میں شریک ہوں تو مفید ہو گا۔اس مختصر کا نفرنس کے بعد پھر ایک عام کا نفرنس منعقد کی جاوے۔اور اس میں زیادہ وسیع پیمانے پر پبلک کے اہل الرائے لوگوں کو دعوت دی جائے ان لوگوں کو دعوت ضرور دی جائے اگر مجبوری کی وجہ سے تشریف نہ لا سکیں تو پھر جس قدر احباب جمع ہوں وہی مشورہ کر لیں۔اصل بات جس پر غور کی ضرورت ہے وہ یہی ہے کہ :- مختلف جماعتوں کی نمائندگی کس اصول پر ہو ؟ اختلاف کی صورت میں کس حد تک مختلف جماعتیں پابند اور کس حد تک آزاد ہوں گی؟ مشترکہ پروگرام کیا ہو اور کس حد تک اس کا دائرہ عمل وسیع ہو ؟ ایسی تحریکات اس طرح ہوتی ہیں کہ ایک شخص دعوت دیتا ہے اور دوسرے لوگ اگر متفرق ہوں تو اس کے بلانے پر جمع ہو جاتے ہیں۔اگر آپ کے نزدیک میری آواز کا کوئی اثر ممکن ہے تو میں ان اصحاب کو دعوت دینے کے لئے تیار ہوں اور اگر کسی دوسرے صاحب کو دعوت دینا زیادہ مناسب ہو تو میں ہر ممکن مدد دینے کا وعدہ کرتا ہوں"۔علاقہ تہراہ کا سنی شیعہ فساد اور حضرت حضرت خلیفتہ المی اشانی ایدہ اللہ تعالی نے کئی مہ خلیفتہ المسیح الثانی کی دردمندانہ اپیل کی توجہ اور کوشش سے اتحاد المسلمین کا جو خوشگوار ماحول پیدا کر دیا تھا۔اسے سرحدی آزاد علاقہ کے شیعہ سنی فساد سے سخت نقصان پہنچا۔جو ستمبر ۱۹۲۷ء کے ابتداء میں تیراہ کے علاقہ میں رونما ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر شیعہ اور سنی حضرات سے ، ندرجہ ذیل دردمندانہ اپیل شائع کی :-