تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 659 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 659

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ فصل سوم 624 خلافت نمائید کا چودھو رنگیلا رسول" اور "در تمان " کے فتنہ کی مدافعت میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور جماعت احمدیہ کی عظیم الشان خدمات دینیہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ہم سفر شملہ کے آخر تک آگئے ہیں لہذا اب وہ واقعات بیان کئے جاتے ہیں جو اگر چہ اس عرصہ میں ہوئے مگر محض تسلسل کی وجہ سے چھوڑ دیئے گئے۔لاوارث عورتوں اور بچوں کی خبر گیری کے لئے تحریک حضرت علیتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے جولائی ۱۹۲۷ء میں آریوں کے ایک خطرناک منصوبہ کا انکشاف کرتے ہوئے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ شدھی کا زور جب سے شروع ہوا ہے ہند و صاحبان کی طرف سے مختلف سٹیشنوں پر آدمی مقرر ہیں جو عورتوں اور بچوں کو جو کسی بد قسمتی کیوجہ سے علیحدہ سفر کر رہے ہوں بہکا کر لے جاتے ہیں اور انہیں شدہ کر لیتے ہیں اس سلسلہ میں حضور نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ ہر بڑے شہر میں لاوارث عورتوں اور بچوں کے لئے ایک جگہ مقرر ہونی چاہئے جہاں وہ رکھے جائیں نیز دہلی والوں کو اس کے انتظام کی طرف خاص توجہ دلائی اور فرمایا۔” یاد رکھنا چاہئے کہ قطرہ قطرہ سے دریا بن جاتا ہے۔ایک ایک آدمی نکلنا شروع ہو تو بھی کچھ عرصہ میں ہزاروں تک تعداد پہنچ جاتی ہے اور ان کی نسلوں کو مد نظر رکھا جائے تو لاکھوں کروڑوں کا نقصان نظر آتا۔پس اس نقصان کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔" چنانچہ انجمن محافظ اوقاف دہلی نے یہ اہم فرض اپنے ذمہ لیا اور اس کے لئے پانچ معزز ارکان کی کمیٹی قائم کر دی۔مسلم پارٹیز کانفرنس کے لئے تجاویز ڈاکٹر سیف الدین صاحب کچلو (ایڈیٹر اخبار تنظیم " امر تسر ا ۱۹۲۷ء میں مسلمانوں کی تنظیم کے لئے ایک مسلم پارٹیز کانفرنس منعقد کرنا چاہتے تھے اس سلسلہ میں انہوں نے جناب شوکت علی خاں، حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون صاحب جناب مولوی محمد علی صاحب پریذیڈنٹ انجمن اشاعت اسلام لاہور ، جناب موادی ثناء اللہ صاحب امرتسری ، جناب ڈاکٹر نیاء الدین صاحب اور جناب پروفیسر عبد اللہ یوسف علی صاحب و غیرہ مسلمان لیڈروں سے مشورہ کے علاوہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے بھی راہنمائی کے لئے