تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 661
تاریخ احمد بیت جلد ۴ 626 ت ثانیہ کا چودهم " سرحدی آزاد علاقہ کے شیعہ سنی فساد کی اطلاعیں ان لوگوں کے لئے جن کے دل میں اسلام کا درد ہے سخت صدمہ کا موجب ہوئی ہیں۔۔۔میں تمام سینیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان معالمات پر پلیٹ فارم یا اخبارات میں جوش سے بحث نہ کریں بلکہ باہمی اختلافات کا پرائیویٹ طور پر تصفیہ کرنے کی کوشش کریں۔نیز یہ بھی اپیل کرتا ہوں کہ سنی صرف اس واسطے اس جھگڑے میں سنیوں کو حق پر نہ سمجھ لیں کہ وہ سنی ہیں اور اس طرح میں شیعوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یہ خیال نہ کرلیں کہ شیعہ قبائل مظلوم ہیں صرف اس وجہ سے کہ وہ شیعہ ہیں لیکن یہ بات صاف ہے کہ ہمیں بہت سی عزیز جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔جو کسی وقت مفاد اسلامی کے لئے زیادہ منفعت بخش ثابت ہو سکتی تھیں۔ہمارا فوری فرض یہ ہونا چاہئے کہ اس برائی کو اور نہ پھیلنے دیں اور ان لوگوں کی مدد کریں جن کو اس فساد میں نقصان برداشت کرنا پڑا ہے میرے ناقص خیال میں چونکہ ہم سرکاری علاقہ میں رہنے کی وجہ سے آزاد علاقے پر بہت تھوڑا اثر رکھتے ہیں اور چونکہ وہ اقوام اپنی آزادی کے لئے بہت غیرت رکھتی ہیں۔اس لئے ہم صرف سرحدی رؤسا کے ذریعہ ہی ان لڑنے والے قبائل پر اثر ڈال سکتے ہیں لہذا ہم کو فور آپشاور اور کوہاٹ میں تمام اسلامی فرقوں کے ذی اثر اصحاب کی ایک کمیٹی بنانا چاہئے جس میں وہ ملا اور سردار خصوصیت سے شامل کئے جائیں۔جن کو ان اقوام میں سے کسی نہ کسی میں کم و بیش رسوخ حاصل ہو تاکہ ہم آزاد سرحدی علاقہ کے شیعوں اور سنیوں میں صلح و آشتی پیدا کرنے کے ذرائع معلوم کر سکیں۔میں یہ بھی تجویز کرتا ہوں کہ اس کمیٹی کو چاہئے کہ ان لوگوں میں حقیقی صلح کرائے۔اور صرف دفع الوقتی سے کام لے کر کوئی ایسا صلح نامہ نہ مرتب کرے۔جو انجام کار ایک سخت نقصان دہ دھوکا ثابت ہو۔نیز ایک فنڈ بھی فورا کھولنا چاہئے۔تاکہ جن لوگوں کو اس افسوسناک لڑائی میں مالی یا جانی نقصان پہنچا ہے ان کی مدد کی جاسکے۔میں ایک لائق ڈاکٹر کی خدمات پیش کرتا ہوں۔جو بشرط ضرورت ان زخمیوں کا علاج کرے گا جن کے متعلق میں نے سنا ہے کہ کثیر تعداد میں سرکاری علاقے میں آگئے ہیں۔نیز میں ان لوگوں کے لئے جن کو اس لڑائی میں تکلیف پہنچی ہے ہر ایک قسم کی مائی و اخلاقی مدد دینے کا جو میری طاقت میں ہے وعدہ کرتا ہوں۔" مصیبت زدگان گجرات کی امداد انہی دنوں گجرات کا ٹھیاواڑ میں سیلاب آیا خود حضور نے کی مالی امداد فرمائی۔اور جماعت کے دوسرے دوستوں نے مصیبت زدگان