تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 658
تاریخ احمدیت جلد ۴ 623 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال کرنے کے لئے یہ روش اختیار کی ہے تو وہ خود ہی ووٹ حاصل کریں در نجف خالص اسلامی خدمات بجا لانے والوں کا معترف ہے اور یہ اس کا آزادانہ اعلان متصور ہو"۔(اخبار در نجف ۱۸ اکتوبر ۱۹۲۷ء صفحه ۱) یہ تو مسلمانوں کی تحریرات ہیں اب ہم ایک جماعت احمدیہ کی مساعی کا اثر آریوں پر آریہ اخبار کی رائے کا ذکر کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہو گا کہ ہندو قوم پر ان مسائی کا رد عمل کس رنگ میں رونما ہوا۔چنانچہ ہندو اخبار "پیج" (مورخہ ۲۳ جولائی ۱۹۲۷ء) نے لکھا۔" ویسے تو آج کل مسلمان بھائیوں کا قریب قریب ہر فرقہ ہندوؤں کا مخالف ہو رہا ہے مگر احمدی مسلمان ہندو جاتی کو بد نام اور تباہ و برباد کرنے کے لئے جو ان تھک کوششیں کر رہے ہیں اس کی نظیر مسلمانوں کا کوئی دوسرا فرقہ نہیں پیش کر سکتا۔یہ طے شدہ بات ہے کہ اس فرقہ کے عالم وجود میں آنے کی غرض و غایت ہی ہندوؤں اور خاص کر آریہ سماجیوں کو تباہ و برباد کرنا تھی جب بھی کسی ہندو بزرگ سے تبادلہ خیالات کا موقع ملا۔میں نے ان کو احمد یہ جماعت کی دن بدن بڑھتی ہوئی کوششوں کی طرف متوجہ کیا۔افسوس میری صدائیں بے اثر ثابت ہو ئیں جو کچھ اب تک ہو تا رہا مسلمانوں کی انفرادی کوششوں کا نتیجہ تھا۔اب ایک زبر دست اور منتظم جماعت (جماعت احمدیہ ) اس کام کے لئے تیار ہو چکی ہے تو ایشور جانے کیا ہو جائے گا۔23 لها اخبار بندے ماترم لاہور (۱۸ ستمبر ۱۹۲۷ء) نے لکھا۔احمدی لوگ تمام دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ ٹھوس اور مسلسل تبلیغی کام کرنے والے ہیں اور ان کی تبلیغی جد و جہد اس وقت ہمیں سب سے زیادہ نقصان پہنچارہی ہے اگر ہماری غفلت کی یہی حالت رہی تو مستقبل قریب میں یہی لوگ ہماری مکمل تباہی کے باعث ہوں گے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ احمدی لوگ ہندو جاتی کے سب سے زیادہ خوفناک حریف ہیں۔ہمیں ان کی طرف سے ہر گز غافل نہ رہنا چاہئے اس ضروری بات کو پھر ایک دفعہ بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ احمدی جماعت ایک نہایت زبردست منظم اور مسلسل تبلیغی کام کرنے والی جماعت ہے احمدیوں کی عورتیں ہماری قوم کے مردوں سے بازی لے گئیں۔ہم اپنی معمولی کامیابیوں پر خوشیاں منانے میں کمی نہیں کرتے لیکن ٹھوس اور خاموش کام کرنے سے ہمیں بیر ہے۔ہماری زبانیں قینچی کی طرح چلتی ہیں لیکن ہاتھ حرکت نہیں کرتے۔احمدیوں کے نقص خوب نکالے بعض اوقات ان کا تمسخر بھی اچھی طرح اڑایا۔لیکن ان کے مقابلہ میں کام کیا کیا ؟ اس کا جواب ہمارے پاس سوائے خاموشی کے اور کچھ نہیں " کوئی