تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 606 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 606

571 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال فرمانبرداری کو دیکھا ہے کہ گزارہ لینے والوں میں بھی وہ فرمانبرداری نہیں نظر آتی۔۔۔ایک پرانا خادم سلسلہ ہم سے اٹھ گیا۔آئندہ نسلوں کی یاد کے لئے اور انہیں بتانے کے لئے کہ ہم میں ایسے مخلص موجود ہیں۔یہ چند کلمات کہے ہیں تا دو سروں کو بھی تحریک ہو اور کام کر کے دکھا ئیں۔دینی خدمات میں tt ان کی طرح حصہ لیں "۔-- ۱۹۲۶ء کے متفرق مگر اہم واقعات ا حضرت خلیفتہ المسح الثانی کے حرم ثالث (حضرت سیده مریم بیگم صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب) کے بطن سے صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ پیدا ہو ئیں۔۲ جنوری ۱۹۲۶ء کے آغاز میں قادیان کے تار گھر کا افتتاح ہوا۔تار برقی کے آلات نصب ہونے کے بعد سب سے پہلا تار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا۔جو ہندوستان کی بعض مشہور جماعتوں کے نام تھا۔تار کے الفاظ یہ تھے۔" خدا تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مرکز قادیان میں تار برقی آجانے کے سبب قادیان کا تعلق بیرونی دنیا کے ساتھ قائم ہو گیا ہے۔تار کا یہاں آنا بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان پیشگوئیوں کا پورا ہوتا ہے۔جو آپ نے قادیان کی ترقی اور معموری کے لئے فرما ئیں۔میں اس موقعہ سے فائدہ اٹھا تا ہوا تمام ان شخصوں کو جو احمدی کہلاتے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلام کو دنیا میں پھیلانے اور اس مقصد وحید کو بہت جلدی پورا کرنے کے لئے اپنی تمام تر کوششوں اور ہمتوں کو صرف کرنے میں مشغول ہو جائیں کہ جس کے لئے خد اتعالیٰ نے حضرت احمد علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا "۔خلیفتہ اصبح۔سیالکوٹ میں احمدیوں کی جامع مسجد کبوتراں والی مسجد کے نام سے مشہور ہے غیر احمدی اصحاب نے اس سے احمدیوں کو بے دخل کرنا چاہا۔آخر عدالت میں چارہ جوئی کی گئی۔عدالت نے ۲۲ - فروری ۱۹۲۶ء کو فیصلہ سنایا جس میں مسجد پر احمدیوں کا قبضہ تسلیم کیا گیا۔۱۸۴ جون ۱۹۲۶ء کو سونگھڑہ (کٹک) کی مسجد کا افتتاح ہوا۔جو بنگال، بہار اور اڑیسہ میں پہلی احمدیہ مسجد تھی۔۵ اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کو سیاسی رنگ میں بھی ایک عظمت اور قوت حاصل ہوئی وہ یہ کہ پنجاب کو نسل کے انتخابات کے سلسلہ میں بعض بڑے بڑے مسلمان لیڈر خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خدا کے فضل سے ایک مسلمان ممبر کے سوا باقی سب مسلمان جن کی تعدادہ تھی اور جن کی جماعت احمدیہ نے تائید کی تھی انتخاب میں