تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 605 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 605

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 570 خلافت تانیہ کا تیرھواں سال روزی کماتے رہے مگر باوجود اس کے خادم صاحب مرحوم نے محض اپنے ذاتی شوق اور ذاتی مطالعہ کے نتیجہ میں وہ کمال پیدا کیا کہ جہاں تک مذہبی مباحثہ اور اس میدان کے علمی حوالہ جات کا تعلق ہے وہ جماعت احمدیہ کے کسی موجودہ عالم سے کم نہیں تھے بلکہ مناظرات میں جوابوں کی فراوانی اور برجستگی میں انہیں گویا ایک جیتی جاگتی انسائیکلو پیڈیا کہنا چاہئے۔ہر اعتراض کا جواب ان کی زبان پر تیار کھڑا ہوتا تھا۔ہر ضروری حوالہ ان کے منہ سے اس طرح نکلتا تھا جس طرح ٹکسال کی مشین سے سکے بن بن کر نکلتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ سب کچھ کسی درسی تعلیم کا نتیجہ نہیں تھا۔بلکہ محض ذاتی شوق اور ذاتی مطالعہ کا نتیجہ تھا۔جس نے ان کو مذہبی مناظرین کی صف اول میں لا کھڑا کیا تھا - جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے اس سال کئی بزرگ انتقال فرما گئے دو بزرگ ہستیوں کا انتقال جن میں سے حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور حضرت چودھری نصر اللہ خان صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ ۱۹۲۶ء کے موقعہ پر حضرت ڈاکٹر صاحب اور حضرت چودھری صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا۔اس دفعہ ہمارے سلسلہ میں سے چند دوست ہم سے جدا ہو گئے جن کے ساتھ بعض خصوصیات وابستہ تھیں۔ان میں سے ایک ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسے زمانہ میں قبول کیا جبکہ چاروں طرف مخالفت زوروں پر تھی اور پھر طالب علمی کے زمانہ میں قبول کیا اور مولویوں کے گھرانہ میں قبول کیا۔۔۔۔جب انہوں نے ایک دوست سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوئی سنا تو آپ نے سنتے ہی فرمایا کہ اتنے بڑے دعوئی کا شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور آپ نے بہت جلد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔حضرت صاحب نے ان کا نام اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے اور ان کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی ہیں کہ حضرت صاحب نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ نے سلسلہ کے لئے اس قدر مالی قربانی کی ہے کہ آئندہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں"۔دوسرے دوست چودھری نصر اللہ خان صاحب تھے جو گو اتنے پرانے نہ تھے لیکن سلسلہ کی خدمات میں بہت آگے نکل گئے تھے میں نے جب ایک دفعہ اعلان کیا کہ سلسلہ کے لئے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دین کی خدمت کے لئے اپنے اوقات کو وقف کریں تو سب سے پہلے لبیک کہنے والے چودھری صاحب ہی تھے جو ادب اور احترام ان میں تھاوہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے کامیاب وکیل تھے۔صاحب جائیداد تھے زمین کافی تھی۔اس لئے یہاں آزادی سے گزارہ کرتے تھے مگر ان کی