تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 588 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 588

تاریخ احمدیت جلد ۴ چھٹا باب(فصل چهارم) 553 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال جنوری ۱۹۲۶ء تا دسمبر ۱۹۲۶ء بمطابق رجب ۱۳۴۴ھ تا جمادی الآخر ۱۳۴۵ھ) دنیا کی چو میں زبانوں میں تقریریں 19 جنو ۲۹ جنوری ۱۹۲۶ء کو (حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے زیر انتظام) پہلی بار ایک جلسہ ہوا جس میں دنیا کی چو میں زبانوں میں تقریریں ہوئیں۔اس جلسہ کے مقررین یہ تھے۔شیخ محمود احمد صاحب عرفانی (عربی)، فخر الدین صاحب مالا باری (ملیالم)، حضرت میر قاسم علی صاحب (اردو) جناب صاحب (جاوی)، عبد الواحد صاحب (کشمیری)، شیخ محمد یوسف صاحب (گورمکھی) حسن خان صاحب (اڈیا) حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل علالپوری (فارسی) حضرت مفتی محمد صادق صاحب (عبرانی) محمد نور صاحب طالب علم مدرسہ احمدیہ (مایا، خواجہ میاں صاحب ( مرہٹی)، حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر (انگریزی)، میاں شاہ ولی صاحب (گوجری مولوی ارجمند خان صاحب (پشتو) مباشہ محمد عمر صاحب (سنسکرت)، علی قاسم صاحب ابن مولوی ابوالہاشم صاحب (بنگالی) ابراہیم صاحب سیلونی (سیلونی)، حضرت ماسٹر عبد الرحمن صاحب نو مسلم (پنجابی) ، ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم (پوربی) احمد سریڈ و صاحب (ڈچ) احسان الحق صاحب (ریاستی)، ضیاء اللہ صاحب (سندھی)، ملک احمد حسین صاحب نیروبی (سواحیلی ) احمد حسین صاحب وکیل (کنٹری) ان تقاریر کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے تقریر فرمائی کہ حضرت مسیح ناصری کے متعلق آتا ہے کہ ان کے حواریوں کے متعلق پیشگوئی تھی کہ وہ غیر زبانوں میں تقریر کریں گے۔چنانچہ انہوں نے یہودیوں کے مختلف قبیلوں کی زبانوں میں ان کو تبلیغ کی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام العود احمد کے مطابق پہلے مسیح سے افضل تھے اس لئے آپ کی جماعت کو یہ فضیلت حاصل ہوئی کہ اس میں غیر زبانیں بولنے والے پیدا ہو گئے۔بے شک اب عیسائیت میں مختلف ممالک کے لوگ داخل ہیں۔عمر حضرت مسیح کے زمانہ میں اور پھر ان کے بعد تین سو سال تک تین چار ممالک میں ہی عیسائیت پھیلی