تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 589
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 554 خلافت ثانیہ کا تیرھواں سال تھی۔پس یہ سب تقریریں ( جو مختلف زبانوں میں صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر ہوئی ہیں) اپنی ذات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی مستقل دلیل ہیں - حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا پانچواں نکاح یکم فروری ۱۹۲۶ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کا نکاح حضرت سیٹھ ابو بکر یوسف صاحب آف جدہ کی دختر فرخندہ اختر حضرت عزیزہ بیگم صاحبہ سے ہوا۔نکاح کا اعلان ایک ہزار رو پسید مہر پر حضرت سید سرور شاہ صاحب نے کیا۔حضرت مولوی صاحب نے خطبہ نکاح میں بتایا۔اس نکاح کے متعلق میں نے الہام کشوف اور رویا اور خوابین وغیرہ بیان کرنے کی اجازت نہیں لی۔اس لئے میں ان کو بیان نہیں کرتا۔البتہ یہ بیان کر دیتا ہوں کہ میں اور حافظ صاحب اس نکاح کے واقعات سے واقف ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ نکاح کن حالات کے ماتحت ہو رہا ہے۔جس لڑکی کے ساتھ اب نکاح ہونے لگا ہے اس کے متعلق حضرت صاحب اپنا ارادہ نسخ کر چکے تھے چنانچہ اس کے رشتے کے متعلق آپ نے کسی دوسری جگہ اجازت بھی دے دی تھی۔لڑکی اور لڑکے کے والدین تیار بھی ہو چکے تھے مگر ایک ہی رات میں خدا نے یہ سب کچھ بدل دیا۔اور صبح ہوتے ہی لڑکے کے باپ نے کہہ دیا ہم نہیں کر سکتے اور ادھر خود حضرت صاحب کو حضر ہے۔ام المومنین پر اور دوسرے احباب پر خداوند تعالٰی نے اپنے منشاء اور قضا و قدر کو بار بار ظاہر فرمایا اور علاوہ اس کے خداوند تعالیٰ کا فعل بھی اس کا مؤید تھا۔خلیفہ بے شک ہمارا آتا ہے مگر خدا کا قبضہ ان کے دل پر بھی ہے۔جس طرح اس نے سید عبد القادر جیلانی سے کہا کہ کھا تو اس نے کھایا اور کہا پہن تو اس نے پہنا اسی طرح اس نے یہاں بھی کیا اور کہا کرو "۔حضرت صاحبزادہ صاحب سید عبد اللطیف جیسا کہ تاریخ احمدیت جلد سوم میں بتایا جا چکا ہے صاحب شہید کے خاندان کی کابل سے حضرت صاجزادہ سید عبد اللطیف صاحب شہید کی شہادت کے بعد آپ کا خاندان ایک لمبے ہجرت اور قادیان میں آمد عرصہ تک ظلم و ستم کا نشانہ بنتا رہا۔اور آخر 140 ۱۹۲ | 147 نہایت بے کسی کے عالم میں ۲/ فروری ۱۹۲۶ء کو سرائے نورنگ (ضلع بنوں) میں ہجرت کر کے آگیا۔جہاں اس کی پہلے سے جاگیر موجود تھی۔سید ابوالحسن صاحب قدسی اور سید محمد طیب صاحب فرزندان شهید مرحوم) کا ارادہ سرائے نورنگ پہنچ کر جلد ہی قادیان کی زیارت کرنے اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہونا تھا کہ اس دوران میں خود حضور نے از راہ شفقت نیک محمد خان صاحب غزنوی کو سرائے نورنگ بھیج