تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 560
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 525 خلافت ثانیہ کا بارھواں سال کی فرانسیسی حکومت نے دمشق پر مسلسل بمباری کر کے تباہی مچادی مگر ان ناموافق حالات میں بھی آپ شاہ صاحب کے ساتھ پیغام حق پہنچاتے رہے اور یکم اپریل ۱۹۲۶ء تک دمشق میں ایک جماعت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا۔ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے شام کے مبلغین نے جو کام کیا وہ۔۔۔تعریف کے قابل ہے کہ انہوں نے تبلیغ کو جاری رکھا۔الخ ۱۹۲۷ء میں مولانا جلال الدین صاحب شمس نے دمشق میں ایک تحریری مناظرہ ڈنمارک کے ایک مشہور پادری الفریڈ نلسن سے کیا جو میں سال سے شام کے علاقہ میں عیسائیت کا کام کر رہے تھے اور شام کے عیسائی مشنوں کے انچارج تھے۔موضوع مناظرہ یہ تھا کہ کیا حضرت مسیح ناصری فی الواقعہ صلیب پر فوت ہوئے ؟ مناظرہ کے محرک السید منیر المعنی صاحب تھے جو احمدی مناظر کے دلائل سن کر احمدیت میں شامل ہو گئے اور اخلاص میں اتنی ترقی کی کہ جماعت شام کے امیرو مبلغ بنے۔چنانچہ آپ خود لکھتے ہیں۔” میرے قبول احمدیت کا سب سے بڑا سبب یہی مناظرہ تھا۔کیونکہ میں نے دیکھا کہ احمدی مبلغ کے دلائل و براہین لاجواب تھے۔مسیحی مناظر سے ان کا کوئی جواب نہ بن پڑا اور عزت و غلبہ اسلام نصف النہار کی طرح ظاہر ہو گیا۔عیسائی پادری اور مولانا شمس صاحب میں مناظرہ سے پہلے یہ معاہدہ ہو ا تھا کہ اختتام مناظرہ پر پوری روئداد مناظرہ فریقین کے خرچ پر طبع کرائی جائے گی۔لیکن جب مناظرہ ہو چکا تو وہ اپنے عہد سے پھر گیا۔اس مناظرہ کے بعد اللہ تعالٰی نے میرا سینہ قبول احمدیت کے لئے کھول دیا اور مجھے مسیح موعود کی جماعت میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہو ا " - یہ مناظرہ "اعجب الاعاجيب في نفي الاناجيل لموت المسيح على الصلیب" کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔عیسائیت کے خلاف محاذ قائم کرنے کے علاوہ آپ نے علماء و مشائخ کا بھی مقابلہ کیا۔مگر آپ کے دلائل و براہین کا وہی جواب دیا گیا جو ہمیشہ مخالفین حق دیا کرتے ہیں۔یعنی دسمبر۷ ۱۹۲ء میں آپ پر خنجر سے قاتلانہ حملہ کرا کے سخت زخمی کر دیا گیا۔آپ کے زخم مندمل ہوئے تو علماء کی ا نکیحت پر فرانسیسی حکومت نے ۹ مارچ ۱۹۲۸ء کو حکم دیا کہ آپ شام کا ملک چھوڑ دیں۔جس کی اطلاع آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں بذریعہ تار دی۔حضور نے آپ کو فلسطین کی بندرگاہ حیفا میں جانے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ آپ السید منیر المعنی صاحب کو دمشق میں اپنا قائم مقام امیر مقرر کر کے ۷ار مارچ ۱۹۲۸ء کو حیفا پہنچ گئے اور فلسطین مشن کی بنیاد رکھی۔شروع شروع میں یہاں بھی آپ کی سخت مخالفت ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ حیفا میں