تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 561 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 561

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 526 خلافت ثانیہ کا بارھواں سال بھی جماعت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔جب مشائخ نے دیکھا کہ یہاں لوگ احمدیت کو بنظر استحسان دیکھنے لگے ہیں تو انہوں نے سخت مخالفت شروع کر دی آخر ایک عالم شیخ کامل قصاب سے آپ کا دودن مباحثہ ہوا۔شیخ مذکور نے اپنی شکست محسوس کر کے عوام کو آپ کے خلاف بھڑکایا۔ان مخدوش حالات کے باوجود آپ برابر تبلیغی کوششوں میں مصروف رہے۔چنانچہ اپریل ۱۹۲۸ء سے فروری ۱۹۲۹ء تک آپ کے آٹھ پرائیویٹ مناظرے علماء سے دو بھائیوں اور سات عیسائیوں سے ہوئے۔عیسائیوں کے ساتھ جو مناظرے ہوئے ان کا اثر مسلمانوں پر بہت اچھا ہوا اور مشائخ کے ساتھ جو مناظرے ہوئے ان میں سے پہلے مناظرہ میں مد مقابل عالم نے اپنی شکست محسوس کرلی۔اس لئے دوسرے مناظرہ میں شرائط مناظرہ کی خلاف ورزی کی جس کا نتیجہ فوری طور پر یہ ہوا کہ جو صاحب محرک مناظرہ تھے وہ احمدی ہو گئے ان کی بیعت پر مشائخ اور بھی زیادہ مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے اور تمام مساجد میں جمعہ کے دن جبکہ دیہات سے بھی سینکڑوں لوگ حیفا میں آئے ہوئے تھے سلسلہ احمدیہ اور آپ کے خلاف تقریریں کیں۔اس کا رد عمل یہ ہوا کہ سلسلہ سے ناواقف لوگ واقف ہو گئے اور جو واقف تھے وہ قریب تر ہو کر سلسلہ کے حالات کا مزید مطالعہ کرنے لگے۔۳/ جون ۱۹۲۸ء کو آپ بعض دوستوں کے ہمراہ سیر کرتے ہوئے (کہا بیر کے نیچے واقع) دادی اسیاح میں پہنچے جہاں ان کی ملاقات الحاج محمد المغربي الطرابلسی سے ہوئی۔معلوم ہوا کہ یہ بزرگ ۲۳ سال سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لا چکے ہیں۔اور ان کے ایمان کا باعث حضرت اقدس کی بعض تالیفات تھیں جو کسی طرح یمن میں امام محمد بن ادریس کے پاس پہنچی تھیں۔یہ بزرگ پہلے ایمان چھپائے ہوئے تھے۔مگر اب اپنے دو شاگردوں سمیت علانیہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے ۱۹۳۰۰ء میں جبکہ کہا بیر میں الحاج صالح عبد القادر عودہ نے اپنے خاندان سمیت احمدیت قبول کرلی۔المحاج مغربی بھی کہا بیر میں آگئے اور کہا بیر کے بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا اور مدرسہ کہا بیر قائم ہونے تک با قاعده یه خدمت بجالاتے رہے۔وسط ۱۹۲۹ء میں علماء نے جماعت احمدیہ کی بڑھتی ہوئی ترقی دیکھ کر مخالفت تیز کر دی چنانچہ انہوں نے فلسطین کی "المجلس الاسلامی الا علی" سے ایک مبلغ آپ کے مقابلہ کے لئے بلوایا جس نے " جمعیتہ الشبان المسلمین اور دوسرے مقامی علماء کے ساتھ مل کر احمدیوں پر جبر و تشد د کرنا شروع کیا۔اس شور د شر کے تھوڑے عرصہ کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں میں جھگڑا شروع ہو گیا اور ایک دوسرے کے خلاف مظاہرات کرنے لگے اور قتل کی وارداتیں شروع ہو گئیں اور معلوم ہو گیا کہ فسادی عصر آپ کے مکان پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ آپ کو فساد کے اندیشہ سے مجبور ادد سرے مکان میں منتقل ہو نا پڑا ۶۴