تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 559 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 559

524 ٥٥ کے مشہور مفکر احمد زکی پاشا نے تسلیم کیا کہ وفات مسیح کے متعلق جو تحقیق احمدیوں نے کی ہے اور جس سے اسلام کی برتری ثابت ہوتی اور عیسائیت پر کاری ضرب لگتی ہے۔ان کے علاوہ محسن البرازی بیک نے (جو پہلے حکومت شام کے سابق وزیر اور پھر القصر الجمہوری معتمد اول منتخب ہوئے) کہا کہ افسوس اگر میرے دنیوی مشاغل مانع نہ ہوتے تو سب سے بہترین کام جس کے اختیار کرنے میں فخر کر تا وہ تبلیغ اسلام تھا جسے احمدی انجام دے رہے ہیں۔ان دنوں عراق میں کوئی مرکزی مبلغ موجود نہیں تھا۔ہندوستانی احمدی انفرادی طور پر تبلیغ میں مصروف رہتے تھے۔حکومت عراق نے انہیں تبلیغ احمدیت کی ممانعت کر دی اور ان کے پرائیوٹ اجتماعات پر بھی پابندی لگادی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو ہدایت فرمائی کہ وہ ہندوستان واپس آتے ہوئے عراق کے راستہ سے آئیں اور کوشش کریں کہ یہ ناروا پابندیاں اٹھا دی جائیں چنانچہ شاہ صاحب شروع ۱۹۲۶ء میں بغداد پہنچے اور امیر فیصل سے ملاقات کی اور خوبی اور عمدگی سے پورا معاملہ ان کے سامنے رکھا جس پر حکومت عراق نے سب پابندیاں اٹھا دیں۔حضرت شاہ صاحب موصوف سفارت عراق میں کامیاب ہو کر ۱۰/ مئی ۱۹۲۶ء کو قادیان تشریف لائے تو سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا۔1026 ON ” میرے نزدیک شاہ صاحب نے اس سفر میں ایک بڑا کام کیا ہے وہ عراق کے متعلق ہے۔سیاست یہ ایک ایسا کام ہے کہ جو دور تک اثر رکھتا ہے۔۔۔۔ہم گورنمنٹ آف انڈیا کے ذریعہ کوشش کر چکے تھے۔مگر پھر بھی اجازت نہ حاصل ہوئی تھی۔وہاں سے ہمارے کئی آدمی اس لئے نکالے جاچکے تھے کہ وہ تبلیغ کرتے تھے۔اپنے گھر میں جلسہ کرنا بھی منع تھا۔ان حالات میں کوشش کر کے کلی طور پر روک اٹھا دیتا بلکنہ وہاں ایسے خیالات پیدا ہو جانا جو ان کے دل میں ہمدردی اور محبت ثابت کرتے ہیں بہت بڑا کام ہے۔یہ کام اس قسم کا ہے کہ سیاسی طور پر اس کے کئی اثرات ہیں۔۔۔۔اس سے سمجھا جائے گا کہ احمدی قوم حکومتوں کی رائے بدلنے کی قابلیت رکھتی ہے۔۔۔۔۔پس شاہ صاحب نے یہ بہت بڑی خدمت کی ہے"۔شاہ صاحب کی خصوصی خدمات کا تذکرہ کرنے کے بعد اب ہم پھر دار التبلیغ شام و فلسطین کے ابتدائی حالات کی طرف واپس آتے ہیں۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے۔شام و فلسطین میں بحیثیت مبلغ مولانا جلال الدین صاحب شمس تشریف لے گئے تھے۔آپ نے شاہ صاحب کی معیت میں وہاں پہنچتے ہی تبلیغ شروع کردی اسی دوران میں نومبر ۱۹۲۵ء میں دروزیوں نے تحریک آزادی کا علم بلند کر دیا جس پر شام