تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 558
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 523 خلافت عثمانیہ کا بار رونگٹا ان کے احسان کے نیچے رہا ہوا ہے۔ان کا بدلہ دینے کے لئے ہمارے یہ مبلغ وہاں جا رہے ہیں۔ان میں سے سید ولی اللہ شاہ صاحب پر دوہری ذمہ داری ہے۔کیونکہ انہوں نے علم بھی اس ملک سے حاصل کیا ہے۔اب ان کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ان لوگوں کو روحانی علم دیں۔مگر ساتھ ہی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہ مبلغ کی حیثیت سے نہیں جارہے بلکہ مدیر کی حیثیت سے جارہے ہیں ان کا کام یہ دیکھنا ہے کہ اس ملک میں کس طرح تبلیغ کرنی چاہئے مبلغ کی حیثیت سے مولوی جلال الدین صاحب جار ہے ہیں ان کو اسی مقصد کے لئے اپنا وقت صرف کرنا چاہئے تاکہ ان کے جانے کا مقصد فوت نہ ہو جائے۔ان کا یہ کام ہے کہ ان کے ذریعہ جو جماعت خدا تعالیٰ پیدا کرے اس کا تعلق مرکز سے اس طرح قائم کریں جس طرح عضو کا تعلق جسم سے ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہماری ترقی ہی موجب تنزل ہوگی۔۔۔پس مبلغین کا سب سے مقدم فرض یہ ہے کہ احمدیت میں داخل ہونے والوں کا آپس میں ایسا رشتہ اور محبت پیدا کرنے کی کوشش کریں جس کی وجہ سے ساری جماعت اس طرح متحد ہو کہ کوئی چیز اسے جدا نہ کر سکے۔اگر شامی احمدی ہوں تو انہیں یہ خیال نہ پیدا ہونے دیں کہ ہم "شامی احمدی " ہیں اسی طرح جو مصری احمدی ہوں۔ان کے دل میں یہ خیال نہ ہونا چاہئے کہ ہم "مصری احمد ی ہیں۔۔۔۔۔کیونکہ مذہب اسلام وطنیت کو مٹانے کے لئے آیا ہے۔اس لئے نہیں کہ حب وطن کو مٹانا چاہتا ہے اسلام تو خود کہتا ہے حب الوطن ایمان کی علامت ہے مگر وہ وطن کو ادنیٰ قرار دیتا ہے اور اس سے اعلیٰ یہ خیال پیش کرتا ہے کہ ساری دنیا کو اپنا وطن سمجھو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انسانیت کو وطن سمجھو دنیا سے مراد تو وہ انسان ہوتے ہیں جو زندہ ہوتے ہیں مگر انسانیت سے مراد وہ تمام انسان ہیں جو پہلے گزر چکے اور جو آئندہ آئیں گے ایک مسلمان کا کام جہاں پہلوں کی نیکیوں کو قائم کرنا اور ان کے الزامات کو مٹانا ہو تا ہے وہاں آئندہ نسلوں کے لئے سامان رشد پیدا کرنا بھی ہوتا ہے اس کے لئے انسانیت ہی مطح نظر ہو سکتی ہے پس ہمارے مبلغوں کو یہ مقصد مد نظر رکھ کر کھڑا ہونا چاہئے اور ہمیشہ اسی کو مد نظر رکھنا چاہئے " AM حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب شمس ۲۷/ جون ۱۹۲۵ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور ۱۷/ جولائی ۱۹۲۵ء کو دمشق پہنچے۔حضرت شاہ صاحب کے دوستوں اور شاگردوں کا حلقہ بیت المقدس اور شام میں وسیع تھا۔جس سے انہوں نے مولانا جلال الدین صاحب شمس کا تعارف کرایا۔قیام دمشق کے دوران میں آپ نے "کشتی نوح کا ترجمہ کیا۔ایک ٹریکٹ "الحقائق عن الاحمدیہ " چھپوایا اور ایک مبسوط کتاب "حیات المسیح دوفاتہ " کے نام سے شائع کی۔جس کا عیسائیوں کے علاوہ بڑے بڑے مسلمان عالموں اور فلاسفروں پر بھی بہت اثر پڑا۔چنانچہ مصر