تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 557
تاریخ احمدیت۔احمدیت جلد ۴ 522 خلافت عثمانیہ کا بارھواں سال چھٹا باب (فصل دوم) وفلسطين دار التبلیغ شام و فا ابھی جماعت احمدیہ کا باقاعدہ قیام بھی عمل میں نہیں آیا تھا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ۶/ اپریل ۱۸۸۵ء کو الہام نازل فرمایا کہ " يدعون لك ابدال الشام و عباد الله من العرب العني تیرے لئے ابدال شام اور عرب کے نیک بندے دعا کرتے ہیں۔اس آسمانی خبر کے قریباً چار سال بعد لدھیانہ میں پہلی بیعت ہوئی۔اور ۱۰/ جولائی ۱۸۹۱ء کو مکہ مکرمہ کے ایک بزرگ محمد بن شیخ احمد ( ساکن محله شعب عامر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے داخل احمدیت ہوئے۔بلاد عربیہ کے دو سرے بزرگ جنہوں نے حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔السید محمد سعید النشار الحمیدانی الطر البسی تھے ان کے علاوہ طائف میں عثمان صاحب اسکندریہ (مصر) میں السید احمد زہری بدرالدین اور یمن میں الحاج محمد المغربی 1 حضور علیہ السلام کی زندگی میں آپ پر ایمان لائے۔| CA¦ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دعوئی مسیحیت کے بعد بلاد عربیہ تک اپنی دعوت پہنچانے کے لئے نصیح و بلیغ عربی میں متعدد تالیفات فرما ئیں۔یہ مبارک لٹریچر بلاد عربیہ اور دوسرے عربی سمجھنے والے ممالک میں پھیلا دیا۔اس طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے زمانہ میں احمدیت کا پیغام ان ممالک تک پہنچ گیا۔اسی زمانہ میں حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصر میں تشریف لے گئے اور احمدیت کی دعوت پہنچاتے رہے۔خلافت اولیٰ کے آخری دور میں سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب لاہوری نو مسلم مصر میں بغرض تعلیم گئے۔اور اپنی تعلیمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ تبلیغ سلسلہ میں بھی مصروف رہے۔ان کے بعد ۱۹۲۲ء میں شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کے ذریعہ بلاد عربیہ کا پہلا احمدید دار التبلیغ مصر میں قائم ہوا۔اب اس سال (۱۹۲۵ء میں) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے شام میں نیا دار التبلیغ کھولنے کے لئے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب شمس کو روانہ فرمایا اور انہیں الوداع کرتے ہوئے جہاں اور کئی نصائح فرما ئیں وہاں یہ بھی ارشاد فرمایا۔کہ اہل عرب کے ہم پر بہت بڑے احسان ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ ہم تک اسلام پہنچا ہا ر ار و نگٹا