تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 545
تاریخ احمدیت جلد ۴ 510 ثانیہ کا بارھواں سال " مجھے اس بات کا خیال نہیں آتا کہ گورنمنٹ افغان نے ہمارے آدمیوں کو سنگسار کر دیا ہے مجھے ڈر ہے تو اس بات کا ہے کہ ہماری نسلیں جب تاریخ میں ان مظالم کو پڑھیں گی۔اس وقت ان کا جوش اور ان کا غضب عیسائیوں کی طرح ان کو کہیں اخلاق سے نہ پھیر دے۔۔۔اس لئے میں آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا تعالی ان کو ہماری ان حقیر خدمات کے بدلے میں حکومت اور بادشاہت عطا کرے گا تو وہ ان ظالموں کے ظلموں کی طرف توجہ نہ کریں جس طرح ہم اب برداشت کر رہے ہیں وہ بھی برداشت سے کام لیں اور وہ اخلاق دکھانے میں ہم سے پیچھے نہ رہیں بلکہ ہم سے بھی آگے بڑھیں۔مسئلہ "قتل مرتد اور ہندو اصحاب مولوی نعمت اللہ صاحب شہید کے واقعہ شہادت کی طرح اس موقعہ پر بھی ہندوستان کے بعض متعصب اور تنگ نظر علماء نے امان اللہ خان کا یہ فعل مستحسن قرار دیا اور اسے " شریعت حقہ اسلامیہ " کی اہم ترین دفعہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔اس موقف نے دشمنان اسلام کے ہاتھ اسلام اور آنحضرت کو بد نام کرنے کا ایک اور ہتھیار دے دیا اور ان کو پورا پورا یقین ہو گیا کہ اسلام واقعی جبرو تشدد کا علمبردار ہے۔چنانچہ مسٹر گاندھی نے کہا "میرا خیال ہے کہ سنگساری کی سزا کی قرآن میں صرف خاص حالات میں اجازت ہے۔جن کے تحت میں یہ واقعات تو آسکتے ہیں لیکن۔۔۔۔اس قسم کی سزا کو اخلاق پر دھبہ قرار دوں گا۔۔۔۔یہ اس قسم کی سزا ہے جو انسانی جذبات کو ٹھیس لگاتی ہے خواہ جرم کسی بھی قسم کا کیوں نہ ہو دل اور دماغ قبول نہیں کرتے کہ کسی بھی جرم کے لئے سنگساری کی وحشیانہ سزا کو مناسب قرار دیا جائے " " پنڈت شردھانند نے بیان دیا کہ حال کی سنگساری کے بارہ میں وزیر داخلہ کابل نے جو اعلان نکالا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے یہ سنگساریاں مذہبی اختلاف کی بناء پر عمل میں آئی تھیں۔جہاں کہیں بھی اسلامی بادشاہت قائم ہوگی وہاں قتل مرتد بذریعہ سنگساری کا قانون جاری ہو گا۔۔۔۔۔اس لئے ہندوستان کے ہندو اس امر سے واقفیت رکھتے ہوئے اطمینان کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتے۔۔۔میں نے مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیتہ علمائے ہند سے پوچھا تھا کہ اگر قتل مرتد کا مسئلہ صحیح ہے تو ہندو مطمئن ہوں گے ؟ مولانا مفتی صاحب نے جواب دیا تھا کہ قتل مرتد کی اجازت اسی حالت میں ہے جبکہ مسلمان بادشاہ ہو۔کیونکہ بادشاہ ہی ایسا حکم دے سکتا ہے۔میں نے اس وقت کہا تھا کہ اگر ہندوستان میں جمہوری سلطنت قائم ہو جائے اور اس کا صدر مسلمان چنا جائے۔اس وقت ان ہندوؤں اور