تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 546 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 546

۔جلد 511 خلافت ثانیہ کا بارھواں سال عیسائیوں کی حالت کیا ہو گی۔جو ایک بار مسلمان ہو کر پھر اپنے پرانے مذہب میں واپس آنا چاہیں گے۔۔۔۔۔اگر ایسے وحشیانہ قانون کے برخلاف یک زبان ہو کر ساری دنیا آواز نہ اٹھائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ انصاف کا خیال دنیا سے معدوم ہو گیا ہے "۔جماعت احمدیہ قتل مسئلہ قتل مرتد اور جماعت احمد یہ اور دو سرے روشن خیال علماء مرتد کے مسئلہ ہی کو اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی و مخالف سمجھتی ہے اس لئے وہ دشمنان اسلام کے حملوں کا جواب دیتے ہوئے شروع ہی سے یہ واضح کرتی آرہی تھی کہ امان اللہ خان کی حکومت اور اس کے مؤیدین نے احمدیوں ہی کا نہیں اسلام کا بھی خون کیا ہے جماعت احمدیہ کے اس مؤقف کی تائید و موافقت بعض دوسرے روشن خیال علماء نے بھی کی اور جرات اور دلیری سے قرآن وحدیث کی روشنی میں ثابت کیا کہ نہ تو اسلام میں ارتداد کے لئے کوئی سزا مقرر ہے اور نہ احمدی مرتد ہیں۔چنانچہ جناب مولانا محمد علی جو ہر نے اس موضوع پر اپنے اخبار ہمدرد میں کئی اقساط میں ایک مفصل مقالہ سپرد قلم کیا جس میں مسئلہ قتل مرتد پر قرآن وحدیث سے بحث کرنے کے بعد لکھا۔اس وقت احمدیوں کی دو جماعتیں ہیں۔لاہوری جماعت کے عقائد تو بالکل عام مسلمانوں کے سے ہیں۔اب رہے قادیانی احمدی یعنی مرزا بشیر الدین صاحب کے حلقہ کے لوگ بے شک ان کے عقائد عام مسلمانوں سے بالکل الگ ہیں اور ہم ان لوگوں کو صحیح نہیں سمجھتے مگر باوجود ان کے غلط عقائد کے ان کو کا فرد مرتد کہنا صریح ظلم ہے کیونکہ وہ اہل کعبہ ہیں ، توحید، رسالت، قرآن اور حدیث کو ماننے اور عبادت و معاملات میں فقہ حنفی پر عمل کرتے ہیں۔صوم و صلوۃ اور حج و زکوۃ کو فرض تسلیم کرتے اور اس پر عمل کرتے ہیں قرآن کو کلام الہی اور رسول اللہ کو افضل الرسل و انبیاء مانتے ہیں۔باقی مرزا غلام احمد صاحب کے متعلق جو خیال انہوں نے قائم کر لیا ہے وہ ہر اک لحاظ سے غلط و باطل ہے مگر بہر صورت وہ قصور علم و کوتاہی فہم کی وجہ سے ہے۔وہ آیات و احادیث میں تاویل کرتے ہیں اور مؤول کو آج تک کسی نے مرتد و کافر نہیں کہا۔مرتد کی تعریف یہ ہے کہ جو اپنی زبان سے کہہ دے کہ میں نے دین اسلام کو چھوڑ دیا۔کسی دوسرے شخص کو یہ حق نہیں کہ کسی ایسے شخص کو وہ مرتد و کافر قرار دے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو۔قرآن میں یہاں تک ہے کہ ولا تقولوا لمن القى اليكم السلام لست مومناط جو تم کو سلام کرے اس سے یہ مت کہو کہ تو مومن نہیں۔اگر قصور نہم و تاویلات بعیدہ کی بناء پر کفر و ارتداد کے فتوے نکلنے اور احکام جاری ہونے لگیں تو کوئی فرقہ بھی کفرو ارتداد کی زد سے نہیں بچ سکتا۔