تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 544 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 544

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 509 خلافت میانیہ کا بارھواں سا م بڑھائے گی"۔" سول اینڈ ملٹری گزٹ " لا ہو ر نے ۱۷ / فروری ۱۹۲۵ء کے پرچہ میں لکھا۔اس بیسویں صدی میں ایسے ملک میں جو اپنے آپ کو دنیا کی مہذب قوموں میں شمار کرے ایسے دل سوز منظر کا واقعہ دل میں افسوسناک خیالات پیدا کرتا ہے "۔اخبار "ریاست " دیلی نے ۲۱ / فروری ۱۹۲۵ء کو لکھا۔افغان گورنمنٹ کا یہ وحشیانہ فعل موجودہ زمانہ میں اس قدر قابل نفرت ہے کہ جس کے خلاف مہذب ممالک جتنا بھی صدائے احتجاج بلند کریں کم ہے۔۔۔۔دنیا میں کسی شخص کا مذہبی عقائد کی صورت میں حکومت کی طرف سے ظلم کیا جاتا اور بے رحمی کے ساتھ قتل کیا جانا باعث شہادت ہوا کرتا ہے اور بلاشبہ نعمت اللہ اور اس کے دو شجاع اور بہادر قادیانی بھی شہید کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔جنہوں نے اپنے عقائد کے مقابلہ پر دنیاوی لالچ اور راحت و آرام کی پروانہ کی اور اپنے فانی جسم کو پتھروں، اینٹوں اور دوسری بے جان چیزوں کے حوالے کر دیا۔ع " ثبت است بر جریده عالم دوام ما"۔" ہم جہاں افغان حکومت کے اس ظالمانہ فعل کے خلاف نفرت اور انتہائی حقارت کا اظہار کرتے ہیں وہاں ان شہداء کے خاندان اور قادیانی فرقہ کے تمام لوگوں کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عقائد پر مضبوط رہ کر دنیا میں ظاہر کر دیا کہ ہندوستان اب بھی اپنے عقائد کے مقابلہ پر بڑی مصیبت کو لبیک کہنے کے لئے تیار ہے " مدر اس کے مشہور اخبار مدراس میل " نے کلکتہ کے اخبار سٹیٹسمین کے حوالہ سے لکھا۔یه نهایت ظالمانہ فعل جو نیم سرکاری افسروں کی ہدایات کے بموجب عمل میں لایا گیا۔۔۔۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ امیر جس نے بلند ارادوں اور مصلحانہ روح کے ساتھ اپنا کام شروع کیا تھا۔۔۔۔۔قدامت پسند اور متعصب اثرات کے نیچے دب گیا ہے "a حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف شہدائے کابل کے حادثہ کی قادیان میں اطلاع سے مظالم پر صبر و سکون کی تلقین جب پہنچی تو حضرت خلیفہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اي وقت بيت الدعا میں تشریف لے گئے اور دعا کی کہ ابھی تو اس حکومت پر رحم فرما اور ان کو ہدایت دے۔دعا کے بعد حضور نے ایک تقریر کی جس میں پوری جماعت کو صبر و سکون سے کام لینے کی تلقین فرمائی اور ساتھ ہی آنے والی نسلوں کو نصیحت فرمائی۔کہ