تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 508 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 508

تاریخ احمدیت جلد ۴ خلافت ثانیہ کا گیار جوان سال انہیں کی تقلید کرنے والا ہو گا اور اللہ تعالٰی کے ہاں جو ٹو اب ان نیک بندوں کی مساعی جمیلہ کے لئے لکھا گیا ہو گا وہ اب دوسروں کو ملنا مشکل ہو گا۔حریفاں باده با خوردند رفتند فی خانه با کردند و رفتند ایسے مفید و نیک دل گروہ کے مبلغ کو یوں بے دردی سے پتھراؤ کر کے ہلاک کر دیا جائے کتنے شدید اور خوفناک ظلم کی بات ہے۔اس واقعہ جانکاہ کا ذرا تصور دل میں لاؤ کہ جس وقت ایسے بے گناہ مظلوم کو میدان میں کھڑا کر کے اس پر پتھر مارنے شروع کئے ہوں گے اور وہ اس کے منہ سر اور آنکھوں پر لگے ہوں گے اور سر کی ہڈیاں ٹوٹ کر ہر طرف خون کی دھاریں چل رہی ہوں گی۔اس وقت اس عاجز بے بس و بے کس کا کیا حال ہوا ہو گا۔لکھا ہے کہ اس شدید عذاب سے ان کی روح جسم سے مفارقت کر گئی اور ان کے دلفگار رفیقوں نے پتھروں میں سے ان کی نعش نکالنی چاہی تو اشقیاء نے انہیں اس کی بھی اجازت نہ دی " AS ۱۲ " آل انڈیا مسلم لیگ" کے صدر آرییل سید رضا علی صاحب نے مولوی نعمت اللہ خان کی نگاری کے دلخراش واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔اگر کسی سیاسی جرم میں انہیں سزادی گئی ہوتی تو ہمیں کوئی سروکار نہ ہوتا۔لیکن اخباروں میں جو فیصلے شائع ہوئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں بعلت ارتداد سنگسار کیا گیا اور یہی باعث ہے جو مسلمان بے تعلق نہیں رہ سکتے۔مذہبی اختلافات پر بحث کرنے کی مجھ میں اہمیت نہیں۔یہ کہہ سکتا ہوں کہ کسی اسلامی حکومت کو یہ حق نہیں کہ محض کسی روحانی عقیدہ کے لئے وہ اپنی کسی رعایا کو قتل کرے۔اگر یہ خیال پھیلا کہ اسلامی حکومتیں رواداری نہیں برت سکیں تو اسلام کی اخلاقی قوت بہت کمزور ہو جائے گی"۔۱۳- اخبار "ذوالفقار " نے ۱/۸ اکتوبر ۱۹۲۴ء کے پرچہ میں دوبارہ لکھا۔ہمیں احمد ی صاحبان سے مذہبا کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔مگر انسانی ہمدردی یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم امیر افغانستان کے اس ظالمانہ اور بے رحمانہ فعل پر اظہار رنج و نفرین کریں اور اس کو متعصب اور مذہبی دیوانہ اور نا قابل حکومت اور سلطنت کہیں۔کسی والی ملک کا یہ فرض منصبی نہیں ہے کہ وہ اپنے مذہب سے اختلاف رائے رکھنے والے کمزور کسی فرقہ یا شخص کو موت کے کھاٹ اتارتا جائے اور زیر دست قوم کے دباؤ سے دیتا ر ہے "۔