تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 507 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 507

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 483 خلافت عثمانیہ کا گیارھواں سال کو ایک اسلامی فرقہ تسلیم کرتے تھے اور فتنہ ارتداد کے متعلق اس کے افراد کی مساعی حسنہ کو اپنے کالموں میں انتہائی استحسان کے ساتھ درج کیا کرتے تھے۔ممالک غیر میں اشاعت اسلام کے متعلق ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان اختلافات کو فروعی قرار دیتے تھے جو احمدی و غیر احمدی مسلمانوں کے عقائد میں موجود ہیں۔پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اب کونسا نیا تغیر فرقہ احمدیہ کے عقائد میں رونما ہو گیا ہے کہ وہ ایک احمدی کو مرتد قرار دینے لگے ہیں۔اگر حکومت افغانستان نے کسی سیاسی امر کی بناء پر ایک احمدی کا قتل مناسب خیال کیا تھا تو اسلام کے دامن کو اس سیاہ دھبے سے آلودہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔وہ اپنے فیصلہ میں صاف لکھ سکتی تھی کہ اس شخص کو کسی سیاسی امر کی بناء پر قتل یا سنگسار کیا جاتا ہے۔اس نے محض ارتداد کو موجب رجم قرار دینے میں غلطی کی اور شریعت سے منسوب کر کے اس غلطی کو اور بھی غلیظ بنا دیا۔ہمارے بعض علماء و معاصرین نے اس غلطی کی تائید کرنے میں اسلام کی نہیں بلکہ اپنے معاندانہ جذبات کی ترجمانی کی ہے۔" ۱۸۷ " لکھنو کے مشہور روزانہ اخبار " اودھ " (۵ / اکتوبر ۱۹۲۴ء) نے لکھا۔یہ معاملہ محض ایک قادیانی کی سنگساری کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کابل کی سلطنت میں کوئی شخص ایسے اعتقادات و خیالات رکھ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔جو وہاں کے با اقتدار علماء و حکام کے خلاف ہوں۔ہمیں یقین ہے کہ تمام متمدن دنیا اب اس تاریک حد سے بہت دور چلی گئی ہے۔جبکہ آزادی رائے و خیال پر بھی پابندیاں عائد تھیں۔اب کسی متمدن ملک میں دلوں پر حکومت کرنے کی کوشش ویسی نہیں ہو رہی ہے جیسی کہ کبھی زمانہ جاہلیت میں ہوتی ہو گی۔اس وجہ سے اس متمدن دنیا میں اور اس آزادی کے دور میں کابل کا واقعہ تمام دنیا کو حیرت میں ڈالنے کے لئے کافی ہے - - اخبار تہذیب نسواں " (لاہور) نے ۱۴ / اکتوبر ۱۹۲۴ء میں لکھا۔اعلیٰ حضرت امیر کابل نے تخت نشینی کے موقع پر اپنی سلطنت میں ہر قوم کو پوری نمذہبی آزادی دینے کا بڑے زور سے اعلان فرمایا تھا۔ایسے اعلان کے بعد اس قسم کے دردناک واقعہ کا ظہور میں آنا بے انتہا افسوس کی بات ہے۔احمدی فرقے کے مسلمان بالعموم دیندار امن پسند مربج مرنجان لوگ ہیں۔عقائد میں ان کا ہم سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔مگر اسلام کی خدمت جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ وہ خدمت ہم مسلمانوں کے کسی اور فرقہ سے نہیں ہو سکتی۔ملکانہ راجپوتوں میں فرائض تبلیغ جس خوبی سے ان خادمان دین نے ادا کئے ہیں وہ اب تک کسی دوسرے فرقے سے ادا نہیں ہو سکے۔پھر ان خدمات کے علاوہ انگلستان اور امریکہ میں احمدی فرقے کے مبلغین خدمات اشاعت اسلام کے باب میں بالکل منفرد ہیں۔یہ خدمات مسلمانوں کے اور کسی فرقے سے نہیں ہو سکیں اور اب کوئی کرے گا تو