تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 509
تاریخ احمدیت جلد ۴ 485 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال متمدن اور مہذب دنیا کے جمعیتہ العلماء ہند کی طرف سے امان اللہ خاں کو مبارکباد اس احتجاج عام کے مقابل ہندوستان کے متعصب اور سنگدل علماء نے اس خبر پر خوشی کے شادیانے بجائے چنانچہ ” جمعیتہ العلماء ہند کی طرف سے مولوی حبیب اللہ صاحب ناظم دارالعلوم دیو بند نے امیر امان اللہ خاں کو مبارکباد کا تار دیا اور لکھا کہ۔"" مرکزی جماعت دار العلوم دیو بند ولی مسرت و اطمینان کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتی ہے کہ اعلیٰ حضرت امیر غازی نے ایک مرد پر حسب قواعد شرعیه حدد تعزیر جاری کر کے امیر شہید رحمتہ اللہ علیہ کے اسوہ حسنہ پر عمل اور خلفاء راشدین کے مبارک عہد اور ملوک عادلہ اسلام کے طریق کو زندہ کیا ہے۔یہ ایک فیصلہ ہے جس نے ہندوستان کی فضا میں ایسے وقت جبکہ قادیانی رہزن نام نہاد نہ ہبی آزادی کی آڑ لے کر غارتگری میں مصروف تھے۔سکون واطمینان پیدا کر دیا ہے اور جو نہایت قبولیت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اعلیٰ حضرت امیر غازی اپنے اس غیر متزلزل اتباع شریعت پر صد ہزار مبارکباد کے مستحق ہیں۔اور یہی وہ امر ہے جو ہم کو دولت خداداد کی ترقی و استحکام اور ملت افغانیہ کے عروج کی غیبی بشارت سناتا ہے۔۱۹۲۰ حضرت خلیفتہ المسیح کا پیغام جماعت احمدیہ کے نام حضرت خلیفہ البیع الثانی نے مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کے سانحہ شہادت پر ۴/ ستمبر ۱۹۲۴ء کو جماعت احمدیہ کے نام پیغام دیا کہ "برادران ! غم کے اس وقت میں ہمیں اپنے فرض کو نہیں بھلانا چاہئے۔جو ہمارے اس مبارک بھائی کی طرف سے ہم پر عائد ہوتا ہے۔جس نے اپنی جان خدا کے لئے قربانی کر دی ہے اس نے اس کام کو شروع کیا ہے جسے ہمیں پورا کرتا ہے آؤ ہم اس لمحہ سے یہ معم ارادہ کر لیں کہ ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک ہم ان شہیدوں کی زمین کو فتح نہیں کر لیں گے (یعنی وہاں احمدیت نہیں پھیلالیں گے) صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب نعمت اللہ خان صاحب اور عبد الرحمن صاحب کی رو میں آسمان سے ہمیں ہمارے فرائض یاد دلا رہی ہیں اور میں یقین کرتا ہوں کہ احمد یہ جماعت ان کو نہیں بھولے گی۔اس پیغام پر جماعت کے بہت سے مخلصین نے حضور کی خدمت میں اپنے نام پیش کئے کہ وہ کابل میں جاکر تبلیغ کرنے اور مولوی نعمت اللہ خان کی طرح جان قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے لکھا۔سید نا و امامنا