تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 506
تاریخ احمدیت جلد ۴ 482 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال ے۔الہ آباد کے انگریزی اخبار "لیڈر" نے ۲۵/ ستمبر ۱۹۲۴ء کو لکھا نعمت اللہ خان کی ہلاکت کے لئے جو خلاف انسانیت اور انتہائی درجہ کا سفاکانہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ یقینا ساری دنیا کی مہذب اقوام کے دل کو ہلا دے گا ایک احمدی نامہ نگار کا بیان ہے کہ اس غریب کو کابل کی تمام گلیوں میں پھر ایا گیا۔اور پولیس اس کے ساتھ ساتھ اعلان کرتی گئی کہ اسے کفر کے جرم میں سنگسار کیا جائے گالوگ اکٹھے ہو کر اس کی خوفناک ہلاکت کا مشاہدہ کریں۔پھر اسے کابل چھاؤنی میں ایک کھلی جگہ لے جا کر کمر تک زمین میں گاڑ دیا گیا۔تب کامل کے مفتی نے اس پر پہلا پتھر پھینکا۔اس کے بعد چاروں طرف سے اس بے چارے پر پتھروں کی بارش ہونے لگی جو اس وقت تک برابر جاری رہی جب تک وہ پتھروں کے ایک بڑے ڈھیر کے نیچے دب نہ گیا۔قتل کا یہ وحشیانہ طریقہ کابل کی اعلیٰ ترین عدالت کے حکم سے عمل میں لایا گیا جس نے حکم دیا تھا کہ عوام الناس کی موجودگی میں اسے سنگساری سے ہلاک کیا جائے "۔IAD - کلکتہ کے انگریزی اخبار "مسلمان" نے ۲۶/ ستمبر ۱۹۲۴ء کی اشاعت میں لکھا۔گورنمنٹ کابل نے مولوی نعمت اللہ خاں کو محض احمدی ہونے کی وجہ سے فتویٰ موت صادر کرنے میں جس بے جا تعصب کا اظہار کیا ہے اور جس وحشیانہ طریق سے ان کا قتل عمل میں لایا گیا ہے ہماری حقیر رائے میں اسلام اور انسانیت کے لئے باعث ننگ و عار ہے۔ہم مسلمان ہیں اور فرقہ حنفیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی والی افغانستان کا مذ ہب ہے۔ہم احمدی فرقہ کے بعض عقائد سے متفق نہیں اور گو ہم مذہبی عالم ہونے کا دعویٰ نہیں رکھتے لیکن یہ خیال بھی نہیں کر سکتے کہ ہماری شریعت میں ایسی نارواداری ہے کہ محض اختلاف عقائد کی وجہ سے حکومت ہونے کی صورت میں قتل کو ردار کھتی ہو۔عیسائی اور یہودی تو رسول ﷺ کی نبوت کے ہی قائل نہیں کیا انہیں بھی سنگسار کرنا چاہئے۔اگر ایسا ہی ہے تو کیوں عدالت ہائے افغانستان نے ان عیسائیوں اور یہودیوں کے خلاف جو مملکت افغانستان میں بستے ہیں فتوئی موت صادر نہیں کیا۔۔۔۔۔ہم یہ ضرور کہیں گے کہ نعمت اللہ خاں پر فتویٰ اور اس پر طریق عمل نے ہمیں سخت نقصان پہنچایا ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ اسلام کے خوبصورت چہرہ پر ایک بد نما دھبہ ہے۔مہذب دنیا میں یہ فعل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ناپسندیدہ خیالات پیدا کرے گا۔ہم امید رکھتے ہیں کہ اس غلطی کا اعادہ نہ ہو گا اور آئندہ افغانستان اس امر کو گوارا نہ کرے گا کہ اسے تعصب اور نارواداری کا مجسمہ سمجھا جائے " ۹ اخبار ” وکیل امر تسر نے اپنی ۲۷/ ستمبر ۱۹۲۴ء کی اشاعت میں لکھا۔یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ افغانستان کے اس فیصلے سے پہلے ہمارے مسلم معاصرین فرقہ احمدیہ HAY