تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 505
تاریخ احمدیت جلد ۴ 481 خلافت ثانیہ کا گیار جواں سال کے امکان کا تصور بھی بیسویں صدی میں مشکل سے ہو سکتا ہے یہ بات بے شک باور کی جاسکتی ہے کہ اس مقدمہ کی تہہ میں ایک پولیٹکل تحریک تھی یعنی در حقیقت اس کا موجب وہ عصر ہوا جس کو خوش کرنے اور جس کی مخالفت کو موافقت سے بدلنے کا امیر کو خاص فکر ہے کیونکہ اس کی اصلاحات پر ان بے حد متعصب لوگوں کی طرف سے خلاف شرع اسلام ہونے کا الزام لگایا گیا ہے ہم کہتے ہیں کہ اگر امیر کا فٹا اپنی سلطنت کے ان بڑھتے ہوئے متعصب لوگوں کو خوش کرنا ہی تھا تو یہ بات اس نے اس نیک نامی پر قربان کر کے حاصل کی ہے جو اس کی گورنمنٹ کو ترقی یافتہ ہونے اور مذہبی رواداری کے لئے حاصل ہو سکتی تھی " اخبار مسلم " لاہور نے ۱۷/ تمبر ۱۹۲۴ء کو لکھا۔حکومت افغانستان کا یہ فعل کہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو محض مرزا صاحب کا پیرو ہونے کی وجہ سے مرتد قرار دیا اور پھر اس خام خیالی پر سنگسار کر دیا مسلمان کہلانے والوں کے لئے باعث شرم ہے۔AP 22 ۵- پیسہ اخبار " لاہور (۱۸) تمبر ۱۹۲۴ء) نے لکھا۔گو ابھی تک اس واقعہ کی مزید تفصیل دستیاب نہیں ہوئی۔لیکن اب پاؤنیر سے معلوم ہوا ہے کہ متعصب عقیدہ کے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے اس سزا کی اجازت دے دی ہو گی۔چونکہ افغانستان میں اسلام سلطنت کا مذہب ہے اور اس کے استحکام پر سلطنت کے استحکام کا مدار ہے۔اس لئے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے لیکن احمدی صاحبان کا یہ اعتراض بھی بجا ہے کہ امیر صاحب نے سال گزشتہ میں نہ ہی حریت کا اعلان کر دیا تھا۔۔۔۔حضرت خلیفتہ المسلمین معزول سلطان عبد المجید خاں نے بھی سوئٹر رلینڈ سے کابل کے اس مذہبی قتل پر سخت صدائے احتجاج بلند کی ہے اور دول یورپ کو اس پر توجہ دلائی ہے۔معلوم نہیں وول یورپ افغانستان کے اس مذہبی معاملہ میں کیا مداخلت کر سکتی ہے بہر حال واقعہ افسوسناک ہے"۔آریہ پتر " (۲۴/ نمبر ۱۹۲۴ء) نے لکھا۔" غیر مسلم مذہب کے لوگ اکثر یہ کہا کرتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کا انحصار زیادہ تر جبر و تشدد اور تلوار پر ہے۔لیکن مسلم اصحاب اس کی تردید کرتے ہیں اور ان کا دعوئی یہ ہے کہ اسلام کی عالمگیر اخوت اور اس کے عقائد کی خوبیاں ہی اس کی اشاعت کا خاص سبب ہیں۔جو ہو ابھی حال میں کامل کی خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ ہر میجسٹی امیر کابل نے ایک احمدی بھائی نعمت اللہ خاں کو اس لئے نہایت بے رحمانہ اور وحشیانہ طریق پر ہلاک کر دیا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود مانتا تھا۔اس ایک واقعہ سے مذہبی معاملات میں اسلامی اسپرٹ کا اچھی طرح اندازہ ہو سکتا ہے"۔