تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 504 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 504

تاریخ احمدیت جلد نم 480 خلافت ثانیہ کا گیارھواں سال فرد نے اپنے مذہب کے لئے شہید ہونا منظور کیا ہے۔اگر چہ کابل کی عدالت نے کہہ دیا تھا کہ مولوی نعمت اللہ کے لئے بروئے شرع تو یہ بھی نہیں ہے تاہم ان کے باعث فخر ہے کہ انہوں نے آخری وقت تک تو بہ نہیں کی پتھر کھا کھا کر مرنا کوئی معمولی بات نہیں۔یہ ایک انتہائی ایڈا کی موت ہے باوجود اس کے انہوں نے اسے منظور کیا لیکن احمدی ہونے سے انکار نہیں کیا۔حضرت مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کے بعد ان کی لاش پر پہرہ لگا دیا گیا۔ان کے بوڑھے غیر احمد کی باپ نے حکام سے لاش لینے کی درخواست کی مگر حکومت نے صاف انکار کر دیا۔انصاف پسند دنیا کا زبردست احتجاج اس دردناک حادثہ کی خبر شائع ہونے پر ہر ملک میں شہید کی مظلومیت پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا گیا اور تمام متمدن اور انصاف پسند دنیا نے اس کارروائی کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا چنانچہ جہاں یورپ کے اخباروں مثلاً " ٹائمز " - " آبزرور " " فنانشل ٹائمز " " نیئر ایسٹ"۔"ڈیلی ٹیلیگراف"۔"مارننگ پوسٹ" "ڈیلی نیوز"- "ڈیلی میل" نے " اس کے خلاف سخت احتجاج کیا اور نوٹ لکھے وہاں ہندوستان کے مسلم اور غیر مسلم پریس نے بھی اس کے خلاف زبردست آواز اٹھائی چنانچہ بطور نمونہ چند اخباروں کے اقتباس درج ذیل کئے جاتے ہیں۔- مشهور شیعہ اخبار " ذو الفقار " نے ۱۸ ستمبر ۱۹۲۴ء کی اشاعت میں لکھا :- ” نہایت افسوس ہے کہ مولوی صاحب مرحوم ایک احمدی مسلمان تھے۔قرآن ایک ہے۔خدا ایک ہے۔رسول ایک کعبہ ایک پانچ وقت کی نماز پڑھتا اور روزے رکھتا تھا صرف اس کا یہ جرم تھا کہ وہ امیر افغانستان کے مذہب کا مسلمان نہیں تھا۔جو پہلے گرفتار کر لیا گیا اور اس کو اپنے مذہب پر پھیرنے کی بہت کوشش کی گئی مگر اس نے قبول نہیں کیا۔اس لئے ظالمانہ سزا سے ایک غریب الوطن کو قتل کر دیا گیا۔خدا مرحوم کو غریق رحمت کرے۔اس رنج میں ہمیں احمد کی صاحبان سے دلی ہمدردی ہے اور امیر کے اس فعل ظالمانہ سے سخت نفرت ہے جس حکومت میں یہ ظلم اور ستم روا رکھا گیا ہے اس کا کا منہ عمر جلد ٹوٹ جائے گا۔ایسی حکومت دیر پا نہیں رہتی "- ۲۔صوبہ بنگال کے بااثر ہندو اخبار "بنگالی (کلکتہ) نے ۹/ ستمبر ۱۹۲۴ء کی اشاعت میں لکھا۔" یہ ہر رنگ میں بالکل خلاف انسانیت اور وحشیانہ ہے مگر اس معاملہ میں جو دھوکہ دہی اور بد عہدی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس حکومت نے ضمیر کی کامل آزادی کا اعلان کیا تھا"۔اخبار " سول اینڈ ملٹری گزٹ " لاہور (۱۵/ ستمبر ۱۹۲۴ء) نے لکھا۔"افغان عدالتوں کا۔۔۔۔۔سارا فیصلہ ایک ایسے جاہلانہ مذہبی تعصب سے لبریز نظر آتا ہے کہ جس IA